میلے کے ٹوکن ایک ہی قطار میں کیسے رہتے ہیں
محلے کے میلے میں جھولا لگنے والا تھا۔ ایک آدمی ٹوکن کی ایک لمبی پٹی ہاتھ میں لیے کھڑا تھا، اور ہر بچے کو باری باری وہی اگلا ٹوکن دیتا تھا۔ وہ پٹی سب کی مشترک یادداشت تھی، جیسے کئی کمپیوٹر ایک ہی ترتیب میں کام لکھنا چاہتے ہیں۔
شور بڑھا تو کچھ بچوں نے سمجھا ٹوکن والا چلا گیا۔ دو دکان دار الگ الگ ٹوکن بانٹنے لگے، ایک ہی رنگ کے ٹوکن دو جگہ سے نکلنے لگے۔ اب کچھ بچے ایک قطار پر تھے، کچھ دوسری پر، اور جھولے کی باری ٹوٹ گئی۔
منتظم نے نیا طریقہ رکھا۔ جب تک ٹوکن والا وقفے وقفے سے ہاتھ اٹھا کر اشارہ دیتا رہے، کوئی اور ٹوکن نہیں بانٹے گا۔ اشارہ دیر تک نہ آئے تو سب ایک ساتھ نہیں لپکتے، ہر دکان دار تھوڑا سا الگ ٹھہرتا ہے، پھر پٹی سنبھالنے کی بات کرتا ہے۔
جو پٹی سنبھالتا، وہ صرف اگلا ٹوکن نہیں دیتا۔ وہ پٹی پر آخری پکا نشان دکھا کر ہر دکان دار سے کہتا، یہیں تک تمہاری پرچی ملتی ہے؟ جس کی پرچی اس جگہ سے مختلف نکلتی، وہ اس کے بعد کی ساری لکھت کاٹ کر پٹی کے مطابق ٹھیک کر لیتا۔
ایک اور قاعدہ بھی بن گیا۔ کوئی نیا ٹوکن والا بننا چاہے تو لوگ اس کی آواز یا جلدی پر نہیں مانتے۔ وہ تبھی مانتے ہیں جب اس کی پٹی کم از کم اتنی ہی آگے ہو جتنی ان کی اپنی پرچی، تاکہ پرانی پٹی والا میلہ پیچھے نہ کھینچ دے۔
بیچ میں کچھ نئے مددگار آئے، کچھ پرانے تھک گئے۔ منتظم نے کہا، ابھی کچھ دیر پرانے اور نئے دونوں کی ہاں کے بغیر کوئی ٹوکن پکا نہیں ہوگا۔ نئے مددگار پہلے ساتھ کھڑے ہو کر پٹی کی نقل کرتے رہے، پھر جب سب برابر ہو گئے تو ذمہ داری آہستہ سے آگے سرک گئی۔
شام تک پٹی لمبی ہو گئی تو ٹوکن والے نے ایک صاف پرچی بنا دی، بس موجودہ حالت اور آخری پکا نشان۔ جو بچہ بہت پیچھے رہ گیا تھا، اسے شروع سے سب سنانے کے بجائے یہی پرچی پکڑا دی۔ تب فرق صاف لگا، میلہ سب کے زور سے نہیں چلتا، ایک ہاتھ کی سیدھی ڈیوٹی اور سب کی آسان جانچ سے چلتا ہے۔