رات کی بس اور شیشہ پر لگے ٹکڑے
رات کی بس ایک ایسی سڑک پر پہنچی جہاں لائنیں مٹ چکی تھیں۔ ڈرائیور نے اسٹیئرنگ مضبوط پکڑا۔ تربیت میں استاد کبھی شیشے پر ہٹنے والے ٹکڑے چپکا دیتا تھا، تاکہ ڈرائیور ایک ہی کونے کو دیکھ کر عادت نہ بنا لے۔
جو ڈرائیور ہمیشہ صاف اور مکمل منظر میں چلاتا ہے، وہ ایک نشان یا سڑک کی ایک دراڑ پر بھروسا کرنے لگتا ہے۔ پھر روشنی بدلے یا نشان غائب ہو تو بس ہلکی سی بہک جاتی ہے۔ یہی بات بڑے نقشہ پہچاننے والے نظام کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے، وہ مشق والی چیزیں رٹ لیتا ہے۔
نیا طریقہ یہ ہے کہ سیکھتے وقت اس نظام کے کچھ اندرونی حصے ہر بار اچانک خاموش کر دیے جائیں۔ جیسے استاد ہر چکر میں شیشے پر الگ جگہ ٹکڑے لگا دے۔ ڈرائیور کو پتا ہی نہ ہو کہ آج کون سا حصہ چھپے گا، تو وہ ایک باریک اشارے پر ٹک نہیں سکتا۔
اس سے اندر کی ٹیم ورک بدلتی ہے۔ پہلے کچھ حصے ایک دوسرے کے سہارے سست ہو جاتے ہیں، ساتھ ہوں تو ہی کام کریں۔ جب کبھی کوئی حصہ خاموش ہو سکتا ہو تو ہر حصہ کو اکیلے بھی کام کا بننا پڑتا ہے۔ بس میں ڈرائیور کبھی سڑک کا بایاں کنارا دیکھ کر، کبھی دایاں، کبھی دور کی لکیر دیکھ کر سیدھا رکھتا ہے۔
پھر سوال اٹھتا ہے کہ بعد میں فیصلہ کرتے وقت کیا ہوگا، جب ایک ہی جواب چاہیے؟ تب سب حصے ساتھ چلتے ہیں، مگر ہر اشارے کی طاقت تھوڑی دبا دی جاتی ہے، جیسے ڈرائیور صاف شیشہ پا کر بھی ہر ایک نشان پر اکیلا بھروسا کم رکھے۔ بات یہ ہے کہ ایک ہی بار میں وہی ٹھہرا ہوا انداز مل جائے۔
جب بس اسی عادت کے ساتھ اصل راتوں میں نکلتی ہے تو لائنیں مٹیں، روشنی بدلے، یا جانا پہچانا موڑ اندھیرے میں گم ہو جائے، ڈرائیور پھر بھی بیچ میں رہتا ہے۔ نیا پن بس یا سڑک میں نہیں، تربیت کی عادت میں ہے۔ روزمرہ کی چیزیں جو لکھائی یا تصویروں میں پہچان کرتی ہیں، ایسی ہی مضبوط عادت سے کم نازک بن سکتی ہیں۔