ہوائی اڈے کی ریہرسل اور ایک مددگار جو پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے
ہوائی اڈہ ابھی آدھا اندھیرا تھا۔ سپروائزر بند کیفے کے پاس سے گزرا اور معلومات والے کاؤنٹر پر رکا۔ آج نیا مددگار چلنا تھا، اس لیے ٹیم نے ایک چھوٹے جعلی ٹرمینل میں ریہرسل کی تھی، جیسے چھوٹے میلے سے بڑے میلے کا اندازہ لگانا ہو۔
ڈر یہ نہیں تھا کہ مددگار ایک سوال کا جواب دے دے گا یا نہیں۔ ڈر یہ تھا کہ جب پورا ہال بھرے گا تو ہر طرف سے سوال برسیں گے اور کوئی غلطی سب کے سامنے ہو جائے گی۔ پہلے بھی چیزیں ایک کونے میں ٹھیک لگیں، پھر پورے ہوائی اڈے میں عجیب چلیں۔
تو ٹیم نے ریہرسل کو نقشہ بنا لیا۔ وہ مددگار کو چھوٹے سائز میں چلاتے، پھر آہستہ آہستہ اسے بڑا کرتے اور دیکھتے کہ ٹھوکر کتنی بار لگتی ہے، جیسے اگلا لفظ غلط چن لینا یا چھوٹا سا کوڈ والا کام ادھورا چھوڑ دینا۔ یہی رجحان بڑے ورژن کا اندازہ بن گیا۔
جب واقعی رش آیا تو مددگار صرف باتیں نہیں کرتا تھا۔ عملہ ایک پیراگراف چپکا دیتا، یا سائن اور فارم کی تصویر لگا دیتا، اور مددگار بتاتا کہ اسے کیا سمجھ آیا اور اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے۔ کئی عام ٹیسٹوں میں یہ پرانے مددگاروں سے بہتر نکلا، مگر ہر کام میں نہیں۔
سپروائزر کی نظر ایک بات پر ٹکی رہی۔ مددگار کبھی کبھی پورے یقین سے غلط بات بھی کہہ دیتا تھا، یا کوئی تفصیل خود سے گھڑ لیتا تھا۔ اس کی یاد بھی ایک حد تک تھی، جیسے پرانا ہدایت نامہ۔ اس لیے باہر کے لوگ اسے پھانسنے کی کوشش کرتے، اور ٹیم نے اوپر سے حفاظتی پرتیں لگائیں تاکہ خطرناک بات پر یہ رک جائے۔ پھر بھی ضدی لوگ راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔
رات کو سپروائزر نے نوٹ بک بند کی۔ فرق یہ تھا کہ اب ٹیم پہلے سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ پورے ہوائی اڈے میں مددگار کیسا چلے گا، صرف امید پر نہیں۔ کچھ اندر کی باتیں وہ نہیں بتاتے، مگر دوسروں کو اپنا امتحان لینے کا راستہ دیتے ہیں۔ روزمرہ میں یہ مددگار بہتر ہوتے جائیں گے، بس بڑے فیصلوں میں دوبارہ چیک ضروری ہے۔