رسی کا گھیرہ اور زمین کے چھپے ہوئے اتار چڑھاؤ
رینجر چھوٹی گھاس میں گھٹنوں کے بل بیٹھا اور ایک لمبی رسی کھولنے لگا۔ اسے اتنی زمین گھیرنی تھی کہ جانور کچھ دن سکون سے رہیں، اور رسی کم لگے۔ ہموار میدان میں جواب آسان تھا، لیکن یہاں زمین چپکے سے اونچی نیچی تھی۔
یہی سوال کچھ لوگ جگہ کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اندر کی جگہ مقرر ہو تو باہر کی حد کتنی کم سے کم ہو سکتی ہے۔ پرانے اصول تب چلتے تھے جب ہر قدم پر زمین ٹھیک ہونے کی پکی گارنٹی ہو۔ اصل جگہوں میں کہیں کہیں خراب دھبے نکل ہی آتے ہیں، تو وہ اصول خاموش ہو جاتے ہیں۔
نیا خیال یہ ہے کہ زمین کو پاس یا فیل نہ سمجھو، اسے خرچ سمجھو۔ رینجر ہر گڑھے کی “خرابی” جوڑ کر ایک مجموعی بل بناتا ہے۔ پھر اسی بل سے اندازہ لگتا ہے کہ ہموار میدان کے مقابلے میں رسی کتنی زیادہ لگ سکتی ہے۔ سبق یہ کہ اوسط خرابی چھوٹی ہو تو اضافی رسی بھی محدود رہتی ہے۔
وہ ایک کیل گاڑ کر رسی کا حلقہ بناتا ہے اور آہستہ آہستہ حلقہ پھیلاتا ہے، تاکہ اندر کی زمین بڑھتی جائے۔ وہ دیکھتا ہے کہ زمین بڑھنے پر رسی کی لمبائی کتنی تیزی سے بڑھتی ہے۔ اگر جگہ دبتے دبتے تنگ ہو تو رسی توقع سے جلدی پھیلتی ہے، لیکن مجموعی “خرابی کا بل” اس اضافے کی حد باندھ دیتا ہے، اور یہ بھی کہ ایک ہی زمین پر ہموار میدان والا رداس اور یہاں والا رداس کتنا ہٹ سکتا ہے۔
پھر رینجر کو ایک باڑ والے محفوظ حصے میں یہی کام کرنا پڑتا ہے، جہاں دیوار اندر کی طرف دھنسی ہوئی نہیں ہوتی۔ اب رسی کا حلقہ دیوار سے ٹکراتا ہے، اور حد میں رسی کے ساتھ دیوار کا حصہ بھی آ جاتا ہے۔ دیوار کی یہ سیدھی سی عادت رخ الٹنے نہیں دیتی، اس لیے اوسط خرابی والا بل یہاں بھی بتا دیتا ہے کہ اضافی حد کتنی ہو سکتی ہے، بس اب بہترین مثال دیوار کے ساتھ ٹکی ہوئی شکل بنتی ہے۔
آخر میں رینجر سمجھ جاتا ہے کہ ہر قسم کی زمین ایک جیسی نہیں۔ کچھ جگہوں میں یہ حساب کھلے میدانوں تک بھی ٹھیک چل جاتا ہے۔ کچھ میں، جہاں زمین پیالے کی طرح مڑتی ہو، اسے دو پابندیاں رکھنی پڑتی ہیں: جگہ بہت پھیلی ہوئی نہ ہو، اور اوسط خرابی بہت نہ بڑھے۔ تب رسی کی “کارکردگی” ہموار گول گھیرے کے قریب رہتی ہے، اور خرابی کم ہو تو فرق بھی گھٹتا جاتا ہے۔