ڈپو میں نقشہ بنا تو پارسل بھی سنبھل گئے
ڈپو کے گیٹ پر شور تھا۔ ایک طرف سائیکل، دوسری طرف چھوٹی وین، اور پیچھے بڑا ٹرک کھڑا تھا، اور بیچ میں پارسلوں کا ڈھیر۔ ڈرائیور نے کہا، اگر میں راستوں کا نقشہ نہ بناؤں تو کچھ نہ کچھ گم ہو جائے گا۔ یہی نقشہ ویسا ہے جیسے کمپیوٹر میں کام کے قدم اور ان کے بیچ کی ڈوری۔
پرانے طریقے میں ڈرائیور کبھی سب کچھ ایک ہی گاڑی میں ٹھونس دیتا، کبھی ایک ہی فہرست بار بار دیکھتا، اور کبھی بھول جاتا کہ کچھ پارسل نکلنے سے پہلے اسکین ہونا ضروری ہیں۔ وقت ضائع ہوتا، کاپیاں بنتیں، اور ایک کام دوسرے کے پاؤں تلے آ جاتا۔
ڈرائیور نے ایک صاف نقشہ کھینچا۔ ہر اسٹیشن پر ایک کام لکھا، جیسے تولنا، لیبل لگانا، اسکین کرنا، پھر لوڈ کرنا۔ لائنیں بتاتی تھیں کہ کون سا پارسل یا لیبل آگے جائے گا۔ ایک بند شیلف بھی رکھ دی، جہاں گنتی اور لیبل محفوظ رہیں تاکہ اگلا چکر صفر سے نہ شروع ہو۔
کچھ کام ایسے تھے جن کا ترتیب سے ہونا لازم تھا، چاہے سامنے پارسل نظر نہ بھی آئے۔ حفاظتی چیک پہلے، پھر لوڈنگ۔ ڈرائیور نے نقشے میں صاف لکھ دیا، یہ پہلے ہوگا تو وہ بعد میں۔ بات یہ ہے کہ جیسے ڈپو میں ترتیب گڑبڑ روکتی ہے، ویسے ہی کمپیوٹر میں قدم ایک دوسرے کو خراب نہیں کرتے۔
پھر ڈرائیور نے کام بانٹ دیا۔ بھاری سامان ٹرک پر، جلدی قریبی ڈراپ سائیکل پر، درمیانہ بوجھ وین پر۔ ایک ہی فہرست تین جگہ بھیجنے کے بجائے، ایک جگہ رکھ کر وہیں سے بانٹ دی تاکہ بار بار اٹھانا نہ پڑے۔ اس سے وقت بھی بچا اور جگہ بھی۔
دوپہر کو ایک گاہک نے بس ایک پارسل کی خبر پوچھی۔ ڈرائیور نے پورا چکر نہ چلایا، صرف اتنا راستہ چلایا جتنا جواب کے لیے لازم تھا۔ پھر اس نے ہر اسٹیشن پر چھوٹا سا نشان بھی لگایا کہ کہاں دیر لگتی ہے، تاکہ اگلی بار رکاوٹ جلد دکھ جائے۔
اچانک وین اسٹارٹ نہ ہوئی۔ ڈرائیور نے گھبرا کر سب کچھ دوبارہ نہیں چھیڑا، بند شیلف سے محفوظ گنتی اور لیبل نکالے اور کام پھر سے جوڑ دیا۔ پہلے دن اندازے سے چلتا تھا، اب نقشہ، صحیح گاڑی، صاف ہینڈ اوور، اور محفوظ رکھی چیزوں کے سہارے کام ٹوٹنے کے بجائے چلتا رہا۔