ریڈیو بوتھ میں آخری لمحے کی پرچیاں
چھوٹے سے ریڈیو بوتھ میں لال بتی جلنے والی تھی کہ مہمان نے فون کر کے کینسل کر دیا۔ میز پر صرف ایک صفحہ ہدایات اور چند سوال جواب کی پرچیاں پڑی تھیں۔ مجھے انہی پر دس منٹ نکالنے تھے۔
لوگ سمجھتے ہیں ہر پروگرام کے لیے الگ تربیت چاہیے، کھیل والا الگ، موسم والا الگ۔ بات یہ تھی کہ کیا ایک ہی لکھنے والا دماغ، بس سامنے رکھی ہدایات اور چند مثالیں دیکھ کر، ہر کام کا انداز بدل سکتا ہے؟
اس سوال کے لیے انہوں نے ایک جیسے لکھنے والے دماغ کے کئی سائز بنائے، جیسے مختلف تجربے والے میزبان۔ ہر ایک کے سامنے نوٹس کی جگہ محدود تھی، چند صفحوں سے زیادہ نہیں۔ شروع میں سب نے پہلے سے بہت سا عام لکھا پڑھا مواد پڑھ رکھا تھا۔
پھر بوتھ کے تین حال بنے: کبھی صرف ہدایات، کبھی ایک مثال، کبھی جتنی پرچیاں میز پر سما سکیں۔ حیرت یہ کہ جتنا میزبان زیادہ پکا تھا، اتنی ہی مثالیں زیادہ کام آئیں۔ میز کی پرچیاں وہی اشارہ تھیں، میزبان کی عادتیں اندر کا حصہ، اور میز کی جگہ حد۔
سب سے بڑا والا اکثر بغیر دوبارہ سکھائے کئی طرح کے سوال سنبھال لیتا تھا۔ خالی جگہ والا جملہ پورا کرنا، عام معلومات کے سوال، اور چند مثالیں ملیں تو جواب کا معیار بہتر۔ زبانوں کے بیچ بات بدلنے میں بھی مثالوں سے مدد ملی، مگر کچھ الجھے ہوئے لفظی فرق اور ہاں یا نہ والے سوال پھنس جاتے تھے۔
کچھ کمال تو تب ہی دکھا جب میزبان کافی تجربہ کار ہو۔ اگر میں نے پرچی پر نیا کھیل لکھا ہو، جیسے لفظ میں حرف گھما کر بدلنا، تو وہ ایک دو مثالوں سے قاعدہ پکڑ لیتا تھا۔ چھوٹے حساب میں بھی پیٹرن دکھاؤ تو چل پڑتا، بڑے قدموں میں لڑکھڑا جاتا۔
پھر ایک کھٹک رہی، کہیں یہ سوال پہلے سے سنے ہوئے تو نہیں؟ چونکہ اس نے بہت کچھ پڑھ رکھا تھا، کچھ جملے پرانے مواد سے مل سکتے تھے۔ انہوں نے ملتے جلتے فقرے ڈھونڈے اور صاف سوالوں پر دوبارہ دیکھا۔ بوتھ میں میں وہی تھا، بس پرچیاں بدلیں، لیکن جتنی آواز پکی لگتی ہے اتنی ہی نقل، جھکاؤ اور جعلی خبریں پھیلنے کا ڈر بڑھتا ہے، اور اسے بنانا بھی مہنگا پڑتا ہے۔