لمبائی نہیں، جگہ: فوم کے خول نے حساب بدل دیا
ورکشاپ میں ایک نازک مجسمہ رکھا تھا۔ ٹیم اس کے گرد سیدھی فوم کی تختیاں لگا کر خول بنا رہی تھی۔ لیڈر بار بار پلاسٹک کی پتلی پٹی سے خلا ناپتا اور پوچھتا، کتنی تختیاں کافی ہیں کہ بس قریب رہیں، ٹکرائیں نہیں؟
پرانا اصول کہتا تھا، مجسمہ جتنا سرے سے سرے تک لمبا ہے، اتنی ہی زیادہ تختیاں لگیں گی۔ مسئلہ یہ تھا کہ مجسمہ لمبا اور پتلا تھا، جیسے تنگ سی کشتی۔ لمبائی بڑی، مگر جگہ کم، پھر بھی گنتی آسمان پر جا رہی تھی۔
لیڈر نے نیا سوال رکھا۔ اگر اسی مجسمے کو پگھلا کر اتنی ہی مقدار کا ایک گولہ بنا دیں تو وہ گولہ کتنا چوڑا ہوگا؟ اب تختیوں کا اندازہ لمبائی سے نہیں، اسی گولے کی چوڑائی سے ہونے لگا۔ شرط یہ تھی کہ مجسمہ ہر جگہ کاغذ کی طرح حد سے زیادہ پتلا نہ ہو۔
ٹیم نے پرانا طریقہ آزمایا۔ باہر والے خول پر ایک جیسے چھوٹے پیڈ رکھ کر کہا، ہر پیڈ کے بدلے ایک حصہ گن لو۔ لیکن پتلی شکل میں کئی پیڈ ایسے نکلے جو خول پر تو بیٹھے تھے، مگر اندر کی طرف زیادہ تر خالی ہوا کے اوپر تھے۔ گنتی دھوکا دینے لگی۔
حل یہ نکلا کہ مجسمے اور باہر کے خول کے بیچ ایک درمیانی تہہ بنائی جائے۔ یہ آدھی دوری پر نہیں تھی، اسے ایسے چنا گیا کہ ہر پیڈ کا کچھ حصہ لازماً مجسمے کے اندر آئے، اور اندر کی طرف اس کا سایہ قابو میں رہے۔ بات سادہ تھی، جب پیڈ میں واقعی مادہ ہو تو گنتی پھر ٹھیک چلتی ہے۔
پھر انہوں نے پیڈ ایسے چنے جیسے سکشن کپ لگاتے ہیں، زیادہ اوورلیپ نہ ہو۔ ہر پیڈ کو اندر کی جگہ کے اپنے حصے سے جوڑ دیا، تاکہ ایک ہی جگہ دو بار نہ گنی جائے۔ یوں قریب والی سطح ڈھکنے کے لیے کتنے پیڈ چاہییں، اس کی حد صاف ہو گئی، اور وہی تختیوں کی حد بن گئی۔
آخر میں خول اسی خلا کے اندر اندر ٹھیک بیٹھ گیا، مگر تختیاں پرانے اصول سے کہیں کم لگیں، خاص طور پر پتلی شکلوں پر۔ لیڈر نے پلاسٹک کی پٹی واپس جیب میں رکھی اور ہنسا، آج پتہ چلا کہ صحیح پیمانہ نوکوں کی دوری نہیں، چیز کے اندر کی جگہ ہے۔