دھندلی تصویر سے دیوار کے نقش تک
میوزیم بند ہو چکا تھا۔ میں دیوار بھر کے نقشے کے سامنے کھڑا تھا اور ہاتھ میں دور سے لی گئی ایک دھندلی تصویر تھی۔ دل میں سوال اٹھا: کیا اس دھندلے شاٹ سے برش کے باریک نشان اور ننھی دراڑیں بھی دکھائی جا سکتی ہیں؟ دماغ کی تصویروں میں بھی یہی چھلانگ چاہیے ہوتی ہے۔
مسئلہ یہ تھا کہ دو طرح کی تصویریں ایک جیسی زبان نہیں بولتیں۔ ایک دور سے، موٹی سی جھلک دیتی ہے، جیسے کمرے کے کونے سے دیکھنا۔ دوسری ناک قریب کر کے، بالکل باریک سطح دکھاتی ہے۔ اور دونوں ایک ہی جگہ کی جوڑی بہت کم ملتی ہے، تو سکھانا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا حصہ کس سے جڑتا ہے۔
کام شروع کرنے سے پہلے دونوں تصویروں کو ایک ہی جگہ پر لانا پڑا۔ بڑی والی باریک تصویر کی قابلِ سنبھال نقل بنائی، پھر اسے آہستہ آہستہ سرکایا اور گھمایا، روشنی اور سائے کے نقش کو اشارہ بنا کر۔ پھر دونوں میں بڑے خدوخال اوپر رکھ کر دیکھا، جیسے دو شفاف شیٹوں پر خاکہ بنا کر ملاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جگہ غلط ہو تو ساری سیکھ غلط ہو جاتی ہے۔
پھر ایک اور رکاوٹ نکلی: باریک والی تصویر اتنی بڑی تھی کہ ایک ساتھ پکڑی ہی نہیں جاتی۔ تو اسے برابر خانوں میں کاٹ دیا، جیسے دیوار پر چوکور پینل بنا دیے ہوں۔ ایک کم باریک مگر پوری دیوار والی شکل بھی رکھی۔ یوں سیکھنے کے لیے تین نظرئے بن گئے: پوری دیوار، درمیانے پینل، اور چھوٹے پینل۔
ترجمہ کرنے کے لیے دو کردار رکھے گئے، جیسے میوزیم میں ریہرسل ہو۔ ایک “پینٹر” جو دور والی دماغی تصویر دیکھ کر باریک جیسی نئی تصویر بنائے۔ دوسرا “چیکر” جو پکڑے کہ یہ نقلی تصویر اصلی باریک تصویر جیسی لگتی ہے یا نہیں۔ جہاں اصل جوڑی موجود ہو، پینٹر کو اس کے قریب رہنا بھی پڑتا ہے، اور دونوں کی سختی ناپ کر توازن بنایا جاتا ہے۔
پھر پتا چلا کہ خانے کا سائز سب کچھ بدل دیتا ہے۔ درمیانے پینل اکثر دیکھنے میں سب سے قائل کرتے ہیں۔ پوری دیوار والی صورت، جب ٹھیک سے جم جائے، نئی اور ان دیکھی جگہ پر بھی بڑے کنارے اور بڑی ساختیں درست رکھتی ہے۔ بہت چھوٹے خانے اکثر پھیکے اور بے سمت نکلتے ہیں، اور جوڑ جوڑ کر پوری تصویر بناؤ تو کناروں پر سیون سی لکیر بھی بن سکتی ہے۔
آخر میں سمجھ آیا کہ کمال صرف “ترجمہ کرنے” میں نہیں، تیاری میں ہے۔ بڑی باریک تصویروں کو قابلِ سنبھال بنانا، انہیں دور والی جھلک کے ساتھ ٹھیک جگہ بٹھانا، پھر ایسا نظر یہ چننا جو پورا نقش ذہن میں رکھے۔ یہ مائیکروسکوپ کی جگہ نہیں لیتا، لیکن بعض موقعوں پر اسکین ایک جھلک دے سکتا ہے کہ قریب سے کیا ملنے والا ہے۔