ڈھلوان پر سائیکل، اور بدلتی عادت کی لگام
ڈھلوان لمبی تھی اور سائیکل کی رفتار چپکے سے بڑھ رہی تھی۔ ایک ہی بار زور سے بریک دباؤں تو ٹائر پھسل سکتے تھے، اور بریک نہ لگاؤں تو نیچے جا کر ٹکر کا ڈر۔ میں نے عادت بدلی، ہلکے ہلکے، بار بار بریک دباتا رہا تاکہ رفتار قابو میں رہے۔
کچھ مشینوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ وہ اپنے اندر کے اصولوں سے فیصلہ کرتی ہیں، پھر دیکھتی ہیں کیا ہوا اور خود کو بدلتی ہیں۔ اگر ایک ہی بار بہت بڑا بدلاؤ ہو جائے تو وہ اچانک بگڑ سکتی ہیں، جیسے بریک کو جھٹکا دینے سے سائیکل ٹیڑھی ہو جائے۔ پہلے سے بچاؤ تھے، مگر اکثر بھاری اور جھنجھٹ والے۔
نیا خیال سادہ تھا، بدلاؤ پر چھوٹی سی حد۔ مشین دیکھتی ہے کہ ابھی کسی کام کو چننے کا امکان کتنا ہے اور پہلے کتنا تھا، پھر اسی فرق سے خود کو بدلتی ہے۔ بات یہ ہے کہ حد سے باہر جانے والا زور گنا ہی نہیں جاتا۔ سائیکل میں یہ ایسے ہے جیسے بریک لیور ہر دباؤ پر بس اتنا ہی ہلے جتنا محفوظ ہو۔
یہ چلتے چلتے کام کرتا ہے۔ مشین تازہ تجربے اکٹھے کرتی ہے اور اسی کو کئی بار دیکھ کر چھوٹے قدموں میں خود کو ٹھیک کرتی ہے۔ حد نہ ہو تو وہ اسی پر بار بار زور لگا کر خطرناک رخ لے سکتی ہے، جیسے ایک ہی جگہ بریک کھینچ کھینچ کر ٹائر سلپ کر جائیں۔ حد لگے تو اضافی زور کا فائدہ رک جاتا ہے، تو وہ سنبھل کر بہتر ہوتی رہتی ہے۔
ایک اور طریقہ بھی آزمایا گیا، ایسا روک جو جتنا زیادہ بھٹکو اتنا سخت ہو جائے، اور پھر اس روک کو چلتے چلتے ٹھیک کیا جائے۔ یہ ایسے ہے جیسے بریک خود ہی زیادہ دباؤ پر واپس دھکیلنے لگے۔ مقابلے میں سادہ حد والا طریقہ اکثر زیادہ بھروسا دیتا رہا، خاص کر جب کام مشکل ہوں اور پھسلنے کا امکان بڑھ جائے۔
آخر میں فرق صاف دکھا۔ حد کے بغیر کبھی کبھی مشین ایک ہی جھٹکے میں بگڑ جاتی تھی، اور حد کے ساتھ وہ ایک ہی تجربے پر کئی بار محنت کر کے بھی قابو میں رہتی تھی۔ ڈھلوان پر میں نے بھی یہی محسوس کیا، چھوٹے دباؤ بار بار، مگر کوئی خطرناک جھٹکا نہیں۔ سبق اتنا کہ ایک قدم میں بہت دور نہ جاؤ، تو سفر ہموار رہتا ہے۔