رات کے بازار میں گم شدہ تبادلوں کی کہانی
رات کے بازار میں لالٹینوں کے نیچے میں کنگنوں کی ادلا بدلی والی میز سنبھال رہا تھا۔ ہوا چلی تو رجسٹر کے کچھ صفحے پلٹ گئے، سیاہی پھیل گئی۔ میں نے سوچا، تبادلے کی لڑی بھی دیکھوں اور ہر کنگن کا انداز بھی، شاید گم لائنیں واپس بن جائیں۔
مسئلہ فوراً کھل گیا۔ زیادہ تر لوگ زیادہ تر لوگوں سے کبھی نہیں بدلتے، تو رجسٹر میں خالی جگہیں ہی خالی جگہیں تھیں۔ پرانے شارٹ کٹ یا صرف تبادلوں کی لڑی دیکھتے تھے یا صرف کنگن کی شکل، اور ہر شخص کے بارے میں ایک پکی رائے بنا دیتے تھے، چاہے صفحے آدھے مٹے ہوں۔
میں نے نیا طریقہ آزمایا۔ ہر شخص کے لیے دل میں ایک چھپا سا خاکہ بنایا، جیسے پنسل کی لکیر ہو اور اردگرد ہلکا سا دھندلا پن بھی۔ یہ خاکہ میں نے دو چکروں میں بنایا: پہلے آپ کے تبادلے والوں سے اشارے آئے، پھر ان کے تبادلے والوں سے بھی۔ یوں کنگن بھی شامل رہا اور آس پاس کے لوگ بھی۔
پھر میں نے دو لوگوں کے خاکے ملا کر دیکھا۔ رخ ملتا تو تبادلے کا امکان بڑھتا، رخ الٹا ہوتا تو کم۔ آخر میں میں اسے صفر سے ایک کے بیچ صاف امکان میں سمیٹ دیتا۔ میں نے ہر شخص کو ایک بار خود سے بھی جڑا مانا، تاکہ اپنا کنگن پڑوسیوں کے شور میں دب نہ جائے۔ اور چونکہ نہ ہونے والے جوڑے بہت زیادہ تھے، میں نے پکے تبادلوں کو زیادہ وزن دیا، ورنہ آسان جواب ہر جگہ “نہیں” ہی بن جاتا۔
اسی خیال کا ایک سادہ روپ بھی ہے۔ دھندلا پن ہٹا دو، ہر شخص کے لیے بس ایک ہی پکا خاکہ رکھ لو، پھر اسی سے رجسٹر بھر دو۔ یہ بھی اچھا چل سکتا ہے، لیکن جب رجسٹر بہت خالی ہو تو دھندلا والا طریقہ فائدہ دیتا ہے، کیونکہ وہ احتیاط سے کہہ سکتا ہے کہ کہاں کم یقین ہے۔
جب میں نے تبادلوں کی لڑی اور کنگن کی نشانیاں دونوں ساتھ رکھیں تو گم شدہ سچے تبادلے اوپر آنے لگے، بے وجہ جوڑوں سے پہلے۔ کنگن کی نشانیاں ہٹا دوں تب بھی یہ طریقہ صرف لڑی والے پرانے انداز سے کمزور نہیں پڑتا۔ بس ایک الجھن رہی: شروع میں خاکے اوسط کے پاس رہتے ہیں، مگر جوڑ بنانے والی گنتی کبھی انہیں اوسط سے دھکیل دیتی ہے، تو بڑے بازار میں اسے سنبھالنا ابھی باقی ہے۔