دھند میں روشنی گھر کا رجسٹر اور ڈی این اے کی لمبی کہانی
ٹھنڈی ہوا میں روشنی گھر کا نگہبان بالکونی پر کھڑا تھا۔ دھند میں جہاز ایک پل کو نکلتے، پھر غائب۔ وہ ہر جہاز کو مسلسل نہیں دیکھ سکتا تھا، تو ایک چھوٹی رجسٹر میں دو تین باتیں لکھ لیتا، تاکہ اگلی جھلک پر راستہ سمجھ آئے۔
ڈی این اے بھی کچھ ایسا ہی ہے، بس بہت لمبا۔ یہ چار حروف کی لڑی ہے: A, C, G, T۔ عام طریقے ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے نگہبان ہر نئے جہاز کو پچھلے سب جہازوں سے بار بار ملا کر دیکھے۔ چھوٹے راستے پر ٹھیک، لیکن فاصلہ بڑھتے ہی وقت اور یادداشت کا خرچ پھول جاتا ہے۔
نئے ڈیزائن، Caduceus اور Hawk، نگہبان والا طریقہ اپناتے ہیں۔ ہر حرف گزرتا ہے تو اندر ایک چھوٹا سا خلاصہ اپ ڈیٹ ہوتا رہتا ہے، جیسے رجسٹر میں نئی سطر، مگر رجسٹر کا سائز وہی۔ جہازوں کی قطار = ڈی این اے کے حروف، رجسٹر = اندر کی مختصر یاد، اور اسی یاد کو آگے لے جانا = لمبی دوری میں سمت قائم رکھنا۔
ایک دلچسپ بات سامنے آئی۔ عام لمبائی پر یہ رجسٹر والا انداز کمزور نہیں نکلا۔ لگ بھگ بارہ ہزار حروف کے کاموں میں Caduceus کئی جگہ پر پرانے مشہور انداز کے برابر یا بہتر رہا، جیسے جین کی سرگرمی کے اشارے۔ Hawk کچھ کاموں میں پیچھے بھی رہا، مطلب ہر نیا طریقہ ہر جگہ نہیں جیتتا۔
پھر فاصلہ اچانک بہت بڑھا دیا گیا۔ بغیر خاص چھیڑ چھاڑ کے Caduceus کو بارہ ہزار سے بڑھا کر قریب ایک لاکھ بیس ہزار حروف تک لے گئے تو کئی کاموں میں فرق معمولی رہا۔ Hawk نے بھی کچھ نتیجوں کو کافی حد تک سیدھا رکھا۔ پرانا انداز لمبائی بڑھتے ہی زیادہ بکھرنے لگا، جیسے نگہبان گھبرا کر ادھر ادھر دوڑنے لگے۔
آخر میں ایک سادہ ترکیب دکھائی گئی: بہت بڑی لڑی کو حصوں میں بانٹو، ایک حصہ پڑھو، پھر آخر والا خلاصہ اگلے حصے کی شروعات میں دے دو۔ جیسے ڈیوٹی بدلنے پر وہی رجسٹر اگلے نگہبان کے ہاتھ میں چلا جائے۔ Hawk اس طرح بہت دور تک دیکھ سکا، مگر ایک خاموش حقیقت بھی رہی: صرف دور تک دیکھ لینے سے جواب لازماً بہت بہتر نہیں ہو جاتا، ابھی سیکھنا باقی ہے کہ اس اضافی دوری کو کام میں کیسے لائیں۔