گودام کی رات اور چار سلائیڈرز والا راز
رات کی شفٹ میں امدادی گودام گرم تھا۔ ایک ہال میں ٹیم کِٹس پیک کر رہی تھی، مگر زیادہ سامان دور والے ہینگر میں تھا۔ کوآرڈینیٹر نے لیپ ٹاپ پر چار سلائیڈر دیکھے: کام کی رفتار، قریبی اسٹور سے ملنے کی رفتار، راستوں کی تنگی، اور دونوں عمارتوں کے بیچ سفر کی رفتار۔ مقصد بس یہ تھا کہ کمپیوٹر والی مشق کا وقت اصل مشق جیسا ہو جائے۔
مسئلہ یہ تھا کہ سب یہ سافٹ ویئر چلاتے تھے، مگر کم لوگ لکھتے تھے کہ سلائیڈر کہاں رکھے تھے۔ کبھی کوئی سینئر اندازہ لگاتا، دیکھتا، پھر تھوڑا بدلتا۔ دن لگ جاتے۔ اور اگر کچھ چیزیں پاس والی میز پر رک جائیں تو کھیل بدل جاتا، غلطی چھپ بھی جاتی۔
پھر ٹیم نے اس کو ایک سیدھا سا مقابلہ بنا دیا۔ ہر سلائیڈر کی حد طے، پھر ایک نمبر: کمپیوٹر کی مشق اصل وقتوں کے کتنی قریب ہے۔ وہ ایک جگہ نہیں دیکھتے تھے؛ کئی اسٹیشنوں کے اوسط وقت، اور کئی حالتیں بھی، جیسے کبھی کچھ سامان پہلے سے پاس ہو اور کبھی بالکل نہ ہو۔ بات “صحیح” سلائیڈر ڈھونڈنے کی نہیں تھی، بات وقت ختم ہونے سے پہلے “سب سے قریب” پہنچنے کی تھی۔
اب ایک آدمی گھمانے کے بجائے، انہوں نے کئی تیز چھوٹی آزمائشیں ساتھ ساتھ چلائیں، جیسے بہت سے مددگار الگ الگ سیٹنگ آزما کر نمبر لے آئیں۔ کسی نے موٹا سا خانہ دار نقشہ بنا کر اچھے حصے میں تنگ کیا، کسی نے رینج میں بےترتیب پھینک کر بہتر والی رکھ لی، کسی نے ذرا سا بدل کر اسی طرف قدم بڑھایا جہاں نمبر بہتر ہوا۔ بڑی رینج میں وہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے بجائے دوگنا دوگنا چھلانگیں لگاتے تھے تاکہ وقت نہ ضائع ہو۔
انہوں نے دو جگہوں والی سخت مشق پر یہ سب آزمایا: بہت سے کام، دور سے بڑی فائلیں لانا، کام کرنا، پھر نتیجہ واپس لکھنا۔ چار طرح کے حالات بنائے گئے: کبھی دور والا راستہ سست، کبھی تیز؛ کبھی وہ “قریب والی میز” والی سہولت، کبھی نہیں۔ حیرت یہ ہوئی کہ خودکار تلاش اکثر انسان کی احتیاط سے بہتر نکلی، خاص طور پر جب وہ قریبی میز والی سہولت آن تھی۔ بےترتیب پھینکنے والا طریقہ اکثر سب سے اچھا یا اس کے بہت قریب رہا۔
پھر ایک پھندا سامنے آیا۔ کبھی آپ آخری وقت تو ملا لیتے ہیں، مگر غلط وجہ سے۔ اگر سارا کام ایک ہی رکاوٹ میں اٹک رہا ہو، جیسے اسٹور سے دینے والا ہاتھ ہی سست ہو، تو باقی سلائیڈر ادھر ادھر ہوں تب بھی نمبر اچھا آ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ آج کی مشق کے لیے ٹھیک سیٹنگ کل کی مختلف مشق میں فیل ہو سکتی ہے، جب دباؤ کسی اور حصے پر ہو۔
آخر میں دو عملی باتیں یاد رہ گئیں۔ ہر حالت چلانا ضروری نہیں؛ دو تین بہت مختلف حالتیں کافی ہو سکتی ہیں، کیونکہ ہر چیک سستا ہو تو آپ زیادہ سیٹنگ آزما لیتے ہیں۔ اور عجیب بات یہ کہ تھوڑا کھردرا، تیز سمیولیشن کبھی بہتر ملاپ دے دیتا ہے، کیونکہ زیادہ آزمائشیں ہو جاتی ہیں۔ یوں سلائیڈر گھمانا “کسی ایک کی مہارت” نہیں رہتا، ایک دہرایا جا سکنے والا طریقہ بن جاتا ہے۔