ایک پیالہ، ایک چراغ، اور سطح کو خود ہی سیدھا کرنے کا طریقہ
مٹی کے کام والی جگہ میں کمہار نے چاک سے پیالہ اٹھا کر چراغ کے نیچے گھمایا۔ ایک طرف چمک ہموار تھی، دوسری طرف تہہ موٹی تھی۔ وقت کم تھا، اور اسی پیالے کی اپنی سطح سے ہی اسے ابھی برابر کرنا تھا۔
اکثر لوگ ایک ترکیب کرتے ہیں، جیسے شاگرد کئی پیالے ساتھ رکھ کر دیکھے اور سب کی اوسط موٹائی نکال کر مشورہ دے۔ یہ تب ٹھیک لگتا ہے جب پیالے بہت ہوں اور ایک جیسے ہوں۔ لیکن ایک پیالہ اکیلا ہو، یا سب الگ ہوں، تو مشورہ ڈگمگا جاتا ہے۔
پھر کمہار نے الٹا کیا۔ اسی ایک پیالے پر جگہ جگہ انگلی کی نظر سے اندازہ لیا، پیالے کی اپنی اوسط نکالی، اور دیکھا فرق کتنا پھیلا ہوا ہے۔ پھر اسی حساب سے پوری سطح کو ہلکا سا دوبارہ برابر کر دیا، اور آخر میں اپنے ذوق کے مطابق تھوڑا گہرا یا ہلکا چھوڑ دیا۔
یہ ایسے ہے جیسے کسی نظام کے اندر ایک ہی چیز کے بہت سے چھوٹے نمبرز ہوں۔ پیالے کے مختلف نقطے انہی نمبرز جیسے ہیں۔ ذوق کے چھوٹے کنٹرول وہ ہاتھ ہیں جو برابر کرنے کے بعد دوبارہ شکل دیتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ توازن پڑوسی پیالوں سے نہیں، اسی پیالے کے اندر سے آتا ہے۔
کمہار کو ایک اور مسئلہ یاد آیا۔ جب وہ بار بار تہہ چڑھاتا ہے تو شروع کی ذرا سی ٹیڑھ آگے چل کر ٹپکنے لگتی ہے، یا سب کچھ اتنا پتلا ہو جاتا ہے کہ رنگ مرجھا جائے۔ ہر قدم پر اسی پیالے کو خود سے برابر کرنا اس بہاؤ کو قابو میں رکھتا ہے۔
اور ایک خاموش سہارا بھی ہے۔ اگر کسی پیالے میں فرق بہت زیادہ ہو تو برابر کرنے والا حساب خود بخود اگلی تبدیلی کو نرم کر دیتا ہے۔ اگر پوری سطح ایک ساتھ زیادہ یا کم ہو تو یہ زیادہ تر کٹ جاتا ہے، لیکن کسی ایک چھوٹے دھبے کی زیادتی پھر بھی نظر میں رہتی ہے۔
کمہار نے سکھ کا سانس لیا۔ اب اسے شیلف بھر پیالوں کی ضرورت نہیں تھی، نہ کل کی اوسط یاد رکھنے کی۔ ایک پیالہ ہو یا کئی، ہر ایک اپنی سطح سے سیدھا ہو جاتا تھا۔ لمبے کام میں یہی فرق پڑتا ہے، ورنہ آخر میں سب کچھ بہہ بھی سکتا ہے۔