اسٹیج کے پیچھے والی وہ پہیے دار چال جو گھر کے روبوٹ کو سیدھا کر دے
پردے کے پیچھے ایک لڑکا لمبا سا سامان لیے بھاری پلیٹ فارم کو کونے میں گھسیٹ رہا تھا۔ عام ٹرالی بار بار موڑ مانگتی، پھر دھکے، پھر واپس۔ پھر کسی نے دوسرا بیس لگایا۔ پلیٹ فارم سائیڈ میں بھی پھسل گیا، وہ بس ہاتھ سے راستہ دکھاتا رہا۔
گھر کے سستے روبوٹ اکثر اسی عام ٹرالی جیسے ہوتے ہیں۔ آگے پیچھے چلتے ہیں، مڑتے ہیں، مگر سائیڈ میں نہیں سرکتے۔ تنگ کچن یا راہداری میں انہیں بار بار بڑے موڑ لینے پڑتے ہیں، اور ہاتھ بڑھاتے ہوئے کیمرہ بھی ہلتا رہتا ہے۔
اسی مشکل کے لیے ایک نیا بیس بنایا گیا جسے TidyBot++ کہا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ اسٹیج والی ہموار چال مہنگی نہ رہے۔ زیادہ تر حصے عام طور پر ملنے والے تھے، بس چند سادہ کسٹم ٹکڑے، جیسے تھری ڈی پرنٹ والے ماؤنٹ اور ایک مشینی شافٹ۔ خراب ہو تو حصہ بدلنا آسان رکھا گیا۔
اصل چال پہیوں میں تھی۔ ہر پہیہ موڑ بھی سکتا تھا اور خود چل بھی سکتا تھا، پھر اسے اس کے موڑنے والے پوائنٹ سے تھوڑا سا ہٹا کر لگایا گیا، جیسے کاسٹر کا پہیہ اپنے جوڑ کے پیچھے ہو۔ یوں ہر پہیے کو ملا کر بیس بائیں، دائیں، آگے، پیچھے، یا اپنی جگہ گھوم سکتا تھا۔ اسٹیج میں پلیٹ فارم روبوٹ ہے، یہ پہیے اسمارٹ کاسٹر ہیں۔ نتیجہ یہ کہ فرش پر جس سمت جانا ہو، سیدھا جا سکتے ہیں۔
کام سکھانے کے لیے اسے چلانا بھی آسان بنایا گیا۔ ایک عام موبائل فون ہاتھ میں پکڑ کر جیسے آپ پلیٹ فارم کو راستہ دکھاتے ہیں، روبوٹ ویسے ہی اپنی حرکت ملاتا ہے۔ فون کیمرے اور موشن سینسر سے اپنا رخ اور جگہ کا اندازہ لگاتا ہے، اور روبوٹ پہیوں کی گھومنے کی گنتی سے وہی جگہ پھر پکڑ لیتا ہے۔
اسی طرح سکھا کر روبوٹ نے گھر میں کئی کام کیے، جیسے فریج کھولنا، کاؤنٹر صاف کرنا، کچرا باہر کرنا، کپڑے لوڈ کرنا، اور پودے کو پانی دینا۔ پھر ایک صاف موازنہ ہوا: کاؤنٹر پونچھتے وقت جب اسے ٹرالی کی طرح چلایا گیا تو راستہ لمبا ہوا اور بات کم بنی۔ جب سائیڈ میں سرکنے دیا تو سیدھا گیا، نظر کم ہلی، اور کام زیادہ بار ٹھیک ہوا۔