کاؤنٹر پر لٹکے کوٹ، اور گنتی کے پیچھے چھپی کہانی
تھیٹر کے کلوک روم میں میں ہر منٹ ریک کی طرف دیکھتا اور کاغذ پر لکھتا: کتنے کوٹ لٹک رہے ہیں۔ آج زیادہ تر دو طرح کے ہیں، بھاری سردیوں والے اور ہلکے برساتی۔ عجیب بات یہ ہے کہ گنتی کبھی ایک جیسی رہتی، مگر ہاتھوں کی بھگدڑ کبھی طوفان، کبھی خاموشی۔
زندہ چیزوں میں بھی اکثر بس یہی گنتی ملتی ہے۔ جانور ہوں یا دو طرح کے خلیے، آپ کو وقت کے ساتھ بس تعداد نظر آتی ہے۔ تعداد پانچ بڑھے تو پتا نہیں چلتا پانچ آئے اور کوئی نہ گیا، یا بہت سے آئے اور اتنے ہی واپس چلے گئے۔
پرانا سیدھا حساب بس اتنا کہتا ہے: جتنے اندر آئے منفی جتنے باہر گئے، بس یہی فرق۔ لیکن کلوک روم میں دو الگ عادتیں ایک ہی اوسط فرق دے سکتی ہیں۔ بھیڑ کبھی اندر آنے والوں کو روکتی ہے، اور کبھی باہر جانے والوں کو تیز کرتی ہے۔ کاغذ پر لائن ہموار لگتی رہتی ہے، اصل قاعدہ چھپا رہتا ہے۔
نیا اشارہ خود یہ ہلچل ہے۔ میں اگر بار بار چھوٹی چھوٹی جھلکیاں لوں تو ایک جھلکی سے اگلی تک اوسط بتاتی ہے رخ کیا ہے، اور اوپر نیچے اچھلنا بتاتا ہے اندر آنا اور باہر جانا کتنا تیز چل رہا ہے۔ مطلب: اوسط فرق دکھاتی ہے، اور شور دونوں کا مجموعہ۔
میں نے اسے قابلِ عمل بنانے کو ریک کو حالتوں میں بانٹ دیا۔ جب بھاری کوٹ اتنے ہوں اور برساتی اتنے، تو اگلے منٹ میں عام طور پر کیا ہوتا ہے، اور کتنا جھول آتا ہے۔ پھر میں نے چند سادہ “نوب” جیسے فیصلے رکھے: بھیڑ زیادہ تر اندر آنے پر اثر ڈالتی ہے یا باہر جانے پر، اور ایک قسم دوسری کو کتنی دھکیلتی ہے۔
نوب بدلتے ہی کہانیاں الگ ہو گئیں، چاہے اوسط گنتی قریب ہی رہی۔ اگر بھیڑ زیادہ تر اندر آنے کو روکے تو ریک نسبتاً پرسکون رہتا ہے۔ اگر بھیڑ باہر نکالنے کو بڑھائے تو گنتی زیادہ اچھلتی ہے۔ فرق تب تیز دکھا جب کوئی نایاب کوٹ آ جائے: اس کا بچنا اس بات پر ٹکا تھا کہ دوسری قسم اس کے آنے جانے کے راستے بدلتی ہے یا نہیں۔
میں نے نوٹ بک بند کی تو شور اب فضول نہیں لگا۔ گنتی کی ہموار لائن صرف آدھی کہانی تھی۔ چھوٹے چھوٹے جھٹکے بتا رہے تھے کنٹرول کہاں ہے: آنے پر، جانے پر، یا دونوں پر۔ کلوک روم میں جو بھگدڑ تھی، وہی اشارہ نکلا جس نے دو چھپی وجہیں الگ کر دیں۔