زمین جتنا بڑا کان، اور ایک دور کا حلقہ
کنسرٹ ہال میں اندھیرا تھا۔ پردے کے پیچھے ڈھول بج رہا تھا، اور آٹھ ساؤنڈ والے اپنے مائیک ہال کے کونے کونے میں لگا رہے تھے۔ ایک ہی تھاپ سب تک پہنچی، بس ہر مائیک تک ذرا مختلف لمحے میں۔
مسئلہ یہ تھا کہ کوئی ایک مائیک پوری بات نہیں سن سکتا تھا۔ پردہ آواز بگاڑ دیتا، ہال میں گونج آ جاتی، اور ڈھول کی باریکیاں دب جاتیں۔ اکیلا مائیک بس دھندلا سا اشارہ دیتا۔
تو سب مائیک ایک ہی وقت پر ریکارڈ کرنے لگے۔ بعد میں انہوں نے ہر ریکارڈنگ کے لمحے ملائے، چھوٹے فرق ڈھونڈے، اور ٹکڑوں کو جوڑ کر ایسے سنا جیسے ہال خود ایک بڑا کان ہو۔ سبق یہ کہ وقت ایک ہو تو دور دور کے اشارے مل کر صاف تصویر بناتے ہیں۔
پھر بھی ڈر تھا کہ کہیں یہ آواز ان کی اپنی جوڑ توڑ نہ ہو۔ اس لیے الگ الگ لوگوں نے الگ طریقے سے ریکارڈنگ صاف کی، اور کئی راتوں کی ریکارڈنگز کو ایک ہی پیمانے پر رکھ کر ملایا۔ جو شکل ہر بار لوٹ کر آئی، وہی سچی لگی۔
ہر بار ایک روشن سا حلقہ بنا، بیچ میں گہرا حصہ۔ حلقہ ایک طرف سے زیادہ چمکتا تھا، اور چمک کا نقطہ دن بہ دن تھوڑا سرک جاتا۔ ڈھول میں یہ فرق ہال کی وجہ سے ہو سکتا تھا، لیکن آسمان والے منظر میں یہ تیز گھومتی گیس کی وجہ سے توقع کے مطابق ہے۔
پھر انہوں نے کمپیوٹر پر کئی ممکنہ منظر بنا کر دیکھا کہ کون سا منظر انہی ریکارڈنگز جیسا نکلتا ہے۔ آسمان میں زمین بھر کی بڑی ڈشیں مائیک بنیں، اور ایم 87 کے بیچ کا چھپا ہوا ریڈیو ذریعہ ڈھول۔ جو حلقہ نکلا وہ بتاتا ہے کہ روشنی کنارے پر مڑتی ہے اور بیچ میں کم لوٹتی ہے، اسی سے بلیک ہول کی جسامت کا اندازہ ہوا۔