ایک درز جہاں روشنی اپنا راستہ خود چنتی ہے
میز پر رکھا سکہ گھومتا ہوا دو ایک جیسے کنگری دار راستوں کی بیچ والی باریک درز میں گرا۔ ہر طرف اوپر اور نیچے کی پٹڑی تھی، اس لیے وہ چار کناروں میں سے کسی پر بھی نکل سکتا تھا، لیکن اس کی گھومنے کی چال نے ایک طرف چن لی۔ یہی نقشہ اس ننھی چپ میں بھی ہے۔
ایسی چپ میں روشنی کو سیدھا کسی ایک راستے پر ڈالنا پہلے آسان نہیں تھا۔ الگ دھکے دینے والے حصے لگتے تھے، پھر الگ دیکھنے والے کہ روشنی گئی کہاں۔ مشکل اس لیے بھی تھی کہ یہ عام پھیلتی روشنی نہیں، کنارے سے لپٹ کر چلنے والی روشنی تھی۔
نیا کام یہ ہوا کہ بیچ کی درز ہی روانگی کی جگہ بن گئی۔ اگر آنے والی روشنی میں گھومنے کا جھکاؤ نہ ہو تو دونوں آئینہ جیسے حصے اسے لے لیتے ہیں۔ اگر گھوماؤ بائیں رخ ہو تو ایک طرف راستہ کھلتا ہے، دائیں رخ ہو تو دوسری طرف۔ جیسے سکے کی گھوم پھر اس کی پٹڑی چنتی ہے۔
اصل بات روشنی کے اس گھوماؤ اور اس کی چلنے کی سمت کے رشتے میں تھی۔ اوپر سے دیکھنے پر کون سا رخ نظر آتا ہے، وہ اہم نہیں نکلا۔ اہم یہ تھا کہ گھوماؤ سفر کی سمت کے ساتھ ہے یا اس کے الٹ۔ اسی سے درز سمجھ لیتی ہے کہ سگنل کو کس سطحی راستے سے باندھنا ہے۔
آخر میں ننھے چاندی کے کھمبوں کی قطاریں کنگھی کے دانتوں کی طرح کام کرتی ہیں۔ وہ کنارے سے لپٹی روشنی کو چن کر باہر نکال دیتی ہیں۔ ایک ترتیب نے بہت صاف گھوماؤ دیا، مگر زور کم تھا۔ ساتھ کی ایک چھوٹی ترتیب نے یہ کمی پوری کر دی، اور دونوں سروں پر الٹے گھوماؤ صاف دکھنے لگے۔
جب یہ سارا نقشہ شیشے پر بچھی چاندی کی تہہ میں بنایا گیا تو راستے واقعی ویسے ہی نکلے جیسے نقشہ کہتا تھا۔ سیدھی روشنی دونوں طرف گئی۔ بائیں اور دائیں گھوماؤ والی روشنی الگ الگ سروں پر پہنچی۔ یوں سمجھ آیا کہ یہاں باہر سے زور لگا کر موڑنا نہیں پڑا، درز نے خود راستہ پڑھ لیا۔