پلاسٹک شیٹس کا ڈھیر، اور ایک ٹیومر جو ہر پرت میں بھاگ جاتا تھا
بارش چھت کی کھڑکی پر ٹک ٹک کر رہی تھی۔ میں نے لائٹ ٹیبل پر شفاف پلاسٹک شیٹس کی ایک موٹی گڈی رکھی، ہر شیٹ پر ہلکا سا سرمئی دھبہ۔ اکیلا دھبہ ٹھیک لگتا تھا، لیکن ایک شیٹ بھی ذرا ہلے تو پوری شکل کانپتی ہوئی دھند بن جاتی۔
یہی مسئلہ سی ٹی اسکین میں ہوتا ہے، بہت سی باریک پرتیں مل کر جسم کی تھری ڈی تصویر بناتی ہیں۔ لبلبے کے ایک خطرناک کینسر میں گلٹی اکثر آس پاس کے گوشت سے مشکل سے الگ دکھتی ہے۔ تو جب کمپیوٹر ایک ایک پرت بنا کر بھرنے لگے، گلٹی اگلی پرت میں چھلانگ لگا دیتی ہے۔
ایک ٹیم نے دو کرداروں والا بندوبست بنایا، ایک بنانے والا اور ایک پکڑنے والا۔ پہلے انہوں نے اصل اسکین ایک جیسے کیے، سائز برابر، روشنی نرم حصوں پر، اور دھات کی تیز چمک کو اسی اسکین کی عام روشنی سے بدل دیا۔ پھر انہوں نے پورے عضو کے بجائے چھوٹے چھوٹے مکعب ٹکڑے کاٹے۔
اصل تبدیلی یہ تھی کہ بنانے والا ایک شیٹ الگ نہیں بناتا تھا۔ وہ پورے مکعب کو ایک ساتھ دیکھ کر پہلے بڑی شکل سمجھتا، پھر واپس باریکیاں بھرتا، اور بیچ بیچ میں چھوٹے راستوں سے پرانی نشانیاں ساتھ رکھتا۔ شیٹس پرتیں ہیں، دھبے گلٹی اور لبلبے کے نقش، اور وہ نشانیاں سیدھ رکھنے کے لیے ہیں۔
پھر ایک الجھن آئی، گلٹی والا مکعب اور لبلبہ والا مکعب الگ بنتے تھے، انہیں جوڑنا تھا۔ جیسے ایک گڈی سے سیاہ دھبہ کاٹ کر دوسری گڈی میں رکھ دیں۔ سیدھا چسپاں کرنے سے کنارہ دکھتا تھا، نرم کرنے سے کم ہوا، اور آخری ملاپ میں کنارے کے پاس کی بناوٹ بھی بدل گئی تو جوڑ چھپ گیا۔
جانچ میں انہوں نے صرف ایک ایک شیٹ نہیں دیکھی۔ انہوں نے مختلف رخ سے پرتوں کی مشابہت بھی دیکھی، اور پورے مکعب کو ہاتھ میں گھما کر دیکھنے جیسا ایک تھری ڈی چیک بھی رکھا۔ اس چیک میں ایک تیار شدہ پہچاننے والا ہر مکعب کو ایک لمبی عددی پہچان میں بدلتا، پھر اصل اور بنے ہوئے مکعب کی پہچان ملائی جاتی۔
فائدہ تب نظر آیا جب یہ بنے ہوئے مکعب مشق کے لیے شامل کیے گئے۔ ایک الگ پہچاننے والا لبلبے کے مکعب کو بیمار یا ٹھیک کہنے میں پہلے اٹکتا تھا، خاص طور پر جب مثالیں ایک طرف زیادہ ہوں۔ جب دونوں طرح کے بنے ہوئے مکعب شامل ہوئے تو اسی امتحان پر کارکردگی بہتر ہوئی۔ پھر بھی محنت باقی ہے، نشان لگانا مشکل ہے، اور کچھ مکعب میں فالتو شور بھی آ جاتا ہے۔