دو پٹریوں والا چھوٹا سا کھیل، جو یاد بھی رکھے اور گن بھی لے
پارک کھلنے سے پہلے میں خاموش ہال میں پہنچا۔ ایک چھوٹی نمائش میں دو گول پٹریاں جڑی تھیں۔ پہلی پٹری میں دھاتی سلائیڈر بس دو طرح چلتا تھا، دائیں یا بائیں، اور لائٹ بند ہو تب بھی اسی طرح رہتا تھا۔
مجھے پرانے سیٹ اپ یاد آئے۔ سلائیڈر کا رخ بدلنے کو پاس ایک الگ بڑا حلقہ لگتا تھا، جیسے دور سے ہلا کر اثر ڈالیں۔ جگہ بھی زیادہ گھرتا تھا اور اردگرد کی چھوٹی ہلچل سے آسانی سے بگڑ جاتا تھا، خاص کر جب بہت سے اسٹیشن پاس پاس ہوں۔
اس نئے سیٹ اپ میں وہ بڑا حلقہ غائب تھا۔ بس دو باریک ہینڈل تھے، ایک قطار والا اور ایک کالم والا، جو سیدھے اسی پٹری میں لگتے تھے۔ دونوں ایک ساتھ دبیں تو ایک ننھا سا لاک ٹک سے کھلتا اور سلائیڈر دائیں یا بائیں جم جاتا؛ اکیلا ہینڈل دبے تو کچھ نہیں ہوتا۔
دوسری پٹری صرف دیکھنے کے لیے تھی، چھیڑنے کے لیے نہیں۔ میں نے نرم سا ٹیسٹ لیور دبایا تو دوسری پٹری سننے لگی، پہلی کو دھکا نہیں لگا۔ سلائیڈر دائیں ہو تو ایک ننھا گیٹ پہلے کلک کرتا، بائیں ہو تو دوسرا، اور ایک ہی لائن پر ہلکا سا اشارہ چلا جاتا۔
پھر عملے نے ایسے بہت سے اسٹیشن گرڈ میں لگا دیے۔ قطار والا ہینڈل پوری قطار تک جاتا، کالم والا ایک جگہ چن لیتا، اور لاک بس وہیں کھلتا جہاں دونوں دباؤ ملتے۔ پڑھتے وقت ایک بات سامنے آئی: مشترک لائن میں ذرا سی کھنچاؤ رہ جائے تو اگلا اشارہ گڈ مڈ ہو سکتا ہے، تو وقفہ رکھنا پڑتا ہے۔
پھر عجیب بات ہوئی۔ ایک ہی کالم میں کئی اسٹیشنوں پر نرم ٹیسٹ لیور ساتھ دبایا گیا۔ جن میں سلائیڈر والی حالت “ایک” کے برابر تھی، انہوں نے اسی لائن کو ہلکا ہلکا کھینچا، اور یہ کھنچاؤ جمع ہو گیا۔ آخر میں کاؤنٹر صرف ہاں یا ناں نہیں بتاتا تھا، وہ گن لیتا تھا کتنے اسٹیشن کھینچ رہے ہیں۔
میں نے دوبارہ پہلی پٹری کو دیکھا۔ پہلے اسے بدلنے کو بڑا اضافی حلقہ چاہیے تھا، اب دو چھوٹے دباؤ ایک ہی جگہ مل کر کام کر دیتے تھے، اور حالت کو قائم رکھنے کے لیے مسلسل زور بھی نہیں لگتا تھا۔ اور جب کئی اسٹیشن ایک ساتھ چیک ہوں، تو وہی لائن یادداشت کا اشارہ بھی اٹھاتی ہے اور گنتی بھی جوڑ دیتی ہے۔