طوفان کی خبر اور دیوار والا نقشہ
ڈسپیچر نے شہر کا بڑا نقشہ دیوار پر لگا رکھا تھا، چپکنے والے کاغذی پرچوں سے بھرا ہوا۔ طوفان کی وارننگ چمکی تو ڈرائیور ایک کے بعد ایک فون کرنے لگے۔ ڈسپیچر سوچنے لگا، ہر کال پر پورا نقشہ دوبارہ بناؤں یا بس جو بدلا ہے وہی ٹھیک کروں؟
پرانے انداز میں کام یہی تھا کہ ہر بار فائلوں والی الماری کھولو، وہی کاغذات پھر سے نکالو، اور شروع سے سب جوڑو۔ جب ایک ہی کام بار بار دہرایا جائے، یا ایک ہی ریکارڈ پر مسلسل سوال ہوں، تو ہر چھوٹی بات بھی دیر لگا دیتی ہے۔ بالکل جیسے ہر ڈرائیور کی خبر پر دیوار خالی کر کے نقشہ نئے سرے سے لگانا۔
پھر ایک نیا خیال آیا جسے لوگ سپارک کہتے ہیں۔ خیال یہ تھا کہ کام کی چیزیں دیوار پر ہی تیار رہیں، اور کئی مشینوں میں بانٹ کر رکھی جائیں، تاکہ اگلی بار پھر سے الماری نہ کھلنی پڑے۔ نقشے میں یہ یوں تھا کہ شہر کو حصوں میں بانٹو، اور ہر حصے کے پرچے اپنی جگہ لگے رہیں۔ بات یہ ہے کہ بار بار صفر سے شروع نہ کرو۔
لیکن پھر ڈر بھی تھا کہ اگر دیوار کا کوئی کونا خراب ہو جائے یا کسی حصے کے پرچے اڑ جائیں تو کیا ہوگا۔ اس خیال میں ہر حصے کے ساتھ ایک چھوٹی سی یادداشت رکھی جاتی ہے کہ یہ حصہ بنا کیسے تھا، تاکہ گم ہوا حصہ بس دوبارہ بنایا جائے، پورا نقشہ نہیں۔ جگہ کم ہو تو کچھ پرچے اتار بھی دیے جاتے ہیں، ضرورت پڑے تو اسی یادداشت سے پھر بنا لیتے ہیں۔
دو چھوٹی چیزوں نے کام اور ہموار کیا۔ ایک یہ کہ بند سڑکوں کی تازہ پرچی سب ڈرائیوروں کو ایک بار دے دی، ہر کال پر وہی بات دہرانا نہ پڑی۔ دوسری یہ کہ گنتی کے لیے ایک مشترک تختی ہو جہاں ڈرائیور بس اضافہ کریں، پڑھنا صرف ڈسپیچر کرے، تاکہ اگر کسی کو رپورٹ دوبارہ دینی پڑے تو بھی حساب بگڑے نہیں۔
پہلی بار دیوار پر نقشہ جمانے میں وقت لگا، یہ سچ ہے۔ مگر اس کے بعد زیادہ تر کالیں بس چند پرچے بدلنے جیسی تھیں، اور خراب کونا بھی پورا کمرہ الٹانے کی وجہ نہیں بنا۔ ڈسپیچر نے فرق اپنے ہاتھوں میں محسوس کیا، پہلے ہر بار نیا آغاز تھا، اب کام چلتا رہتا تھا۔