لفٹ کا جھٹکا، قصور موٹر کا نہیں
لفٹ کے دروازے کھلے تو لوگ ایک ساتھ اندر گھس آئے۔ اوپر والی بتی کبھی تیز چلی، کبھی رک گئی، پھر اچانک اچھل گئی۔ بلڈنگ والے انچارج نے کہا، مسئلہ موٹر نہیں، وزن ناپنے والی چیز ہے جو ہر بار اپنا اندازہ بدل رہی ہے۔
انچارج نے بتایا، جب یہ وزن ناپنے والی چیز کبھی ہلکا، کبھی بھاری کو “عام” سمجھ لے تو لفٹ ہر قدم پر زیادہ ردعمل دیتی ہے۔ بالکل ایسے ہی، ایک گہری سیکھنے والی مشین کے اندر ایک حصے کو پچھلے حصے سے آنے والے اشارے بدلتے رہیں تو اگلا حصہ بار بار خود کو سنبھالتا رہتا ہے۔
اس نے ایک چھوٹا سا ٹکڑا بیچ میں لگا دیا۔ ہر سفر کے آغاز میں وہ اسی وقت لفٹ میں موجود لوگوں کے حساب سے وزن ناپنے والی چیز کو جلدی سا سیدھا کر دیتا، تاکہ پڑھائی ایک جیسی حد میں رہے۔ مشین کے اندر بھی یہی نیا قدم رکھا جاتا ہے تاکہ اگلا حصہ بدلتے اندازوں کے پیچھے نہ بھاگے۔
میں نے پوچھا، اگر سب کچھ ایک ہی حد میں باندھ دو تو لفٹ سخت مزاج نہ ہو جائے؟ انچارج ہنسا اور دو چھوٹے کنٹرول دکھائے، ایک سے پڑھائی کھینچ کر بڑھتی ہے، دوسرے سے آگے پیچھے سرک جاتی ہے۔ مشین میں بھی یہی ہوتا ہے، سیدھا کرنے کے بعد بھی وہ اپنی ضرورت کے مطابق ترتیب بنا لیتی ہے۔
انچارج نے کہا، یہ سیدھا کرنا ہر سفر میں اسی وقت کے لوگوں سے ہوتا ہے، تو ہر بار ہلکا سا فرق آ جاتا ہے۔ وہ فرق کبھی کبھی فائدہ بھی دیتا ہے، جیسے ہلکی سی کپکپی جو غلط عادتیں پڑنے نہ دے۔ جب لفٹ کو روزمرہ میں بس چلانا ہو تو وہ پہلے سے جمع کی ہوئی عام سی حدیں لے لیتی ہے، تاکہ ہر بار نتیجہ ایک جیسا رہے۔
چند دن بعد لفٹ عجیب نہیں رہی، بس خاموشی سے نرم چلنے لگی۔ انچارج نے رفتار تیز کی، مگر جھٹکا نہیں آیا، کیونکہ وزن ناپنے والی چیز اب بھٹکتی نہیں تھی۔ یہی بات مشین میں بھی کام آتی ہے، اشارے اگر قابو میں رہیں تو سیکھنا ہموار چلتا ہے اور سیٹنگ پر کم نخرے کرتا ہے۔
میں نے لفٹ کے اندر کھڑے ہو کر محسوس کیا، کمال طاقت میں نہیں، بیچ کے اس چھوٹے “ری سیٹ” میں ہے جو خود بھی سیکھتا ہے۔ پہلے لفٹ ہر بھیڑ پر چونکتی تھی، اب بھیڑ بدلے تو بھی اس کا انداز ٹھیک رہتا ہے۔ ایسی ہی ترکیب کی وجہ سے بہت سے روزمرہ اوزار شکلیں اور پیٹرن پہچاننے میں زیادہ آسانی سے بہتر ہو پاتے ہیں۔