کیمپ کی نوکری اور ایک عجیب سا فارم
یوتھ کیمپ کی بھرتی والے ہال میں کرسیوں کی کھڑکھڑاہٹ تھی۔ میں نے فارم پر گھیرے لگائے: دباؤ میں پُرسکون رہتا ہوں۔ پھر سپروائزر نے رول پلے دیا: بچہ رو رہا ہے، طوفان آ رہا ہے، دو کونسلر الجھ رہے ہیں۔ دو راستے تھے، ایک منظم، ایک گھبراہٹ والا۔
آج کل لوگ چیٹ کرنے والے ٹیکسٹ بنانے والے سسٹم سے بھی ایسے ہی فارم پُر کرواتے ہیں، جیسے انسانوں کے مزاج والے سوالنامے۔ جواب اتنے ہموار لگتے ہیں کہ ماننے کو دل کرتا ہے۔ بات یہ ہے کہ کیا یہ باتیں مشکل، گندی سی صورت حال میں فیصلوں سے بھی ملتی ہیں؟
کچھ لوگوں نے فارم اور رول پلے کو جوڑی کی طرح باندھ دیا۔ ہر مزاج والے جملے کے ساتھ ایک روزمرہ منظر لکھا گیا، اور ہر منظر میں دو کام رکھے گئے: ایک وہ جو جملے سے میل کھائے، دوسرا اس کے الٹ۔ یہی سیٹ دو زبانوں میں بنایا گیا تاکہ مطلب ایک جیسا رہے۔
پھر دونوں طرف ایک ہی طرح کی جانچ ہوئی۔ فارم والے حصے میں سسٹم سے بار بار درجہ بندی لی گئی، مختلف انداز میں پوچھ کر، عجیب جواب ہٹا کر ایک اوسط نکالی گئی۔ رول پلے والے حصے میں اسی پیمانے پر بتایا گیا کہ وہ منظم قدم کے قریب جاتا ہے یا گھبراہٹ والے کے۔
کچھ سسٹم تو رول پلے میں ٹھیک سے اس پیمانے پر جواب ہی نہ دے سکے، وہ الگ کر دیے گئے۔ باقی میں یہ دیکھا گیا کہ کہیں وہ الٹی بات پوچھنے پر خود سے ٹکرا تو نہیں جاتا، اور کیا سوالنامے کے دو حصے ملتے جلتے نقشے بناتے ہیں۔ جو کافی ٹھیک نکلے، وہی آگے رکھے گئے۔
جب فارم کے نمبروں کو رول پلے کے انتخاب سے ملایا گیا تو انسانوں میں دونوں ایک ہی کہانی سناتے تھے، جیسے فارم پر پُرسکون لکھ کر وہی منظم قدم چننا۔ سسٹم اکثر فارم میں اچھا بناتا، مگر منظر میں بار بار الٹا قدم چن لیتا۔ ایک سسٹم انسانوں کے قریب آیا، پھر بھی عام انسان جیسا نہ بن سکا۔
ہال میں سپروائزر نے فارم بند کیا اور رول پلے کی شیٹ پر انگلی رکھ دی۔ وہ بدتمیز نہیں تھا، بس یہ سمجھ گیا تھا کہ صاف ستھرا فارم کمزور فیصلوں کو چھپا بھی سکتا ہے۔ اگر کسی سسٹم کو مدد یا بات چیت کے کام میں لگانا ہو تو صرف فارم کافی نہیں، منظر والے انتخاب بھی دیکھنے پڑتے ہیں۔