رات کی میل گاڑی میں ایک جیب کارڈ نے ترجمہ بدل دیا
رات کی ٹرین کی میل گاڑی میں مدھم بلب جل رہا تھا۔ ایک کلرک کے ہاتھ میں اسٹیشنوں کی لمبی پرچی تھی، ایک ہی زبان میں۔ ہر اسٹاپ پر وقت کم تھا، تو کلرک نے پرچی بس ایک بار پڑھی، مطلب سمیٹا، اور جیب سائز کارڈ پر لکھ کر ساتھ والے لکھاری کو دے دیا۔
مسئلہ وقت کا تھا۔ لکھاری کو پہلا جملہ کبھی ایسی بات پر ٹک جاتا جو پرچی کے آخر میں دبی ہوتی۔ جب وہ بات دیر سے ملتی، غلطی ہو چکی ہوتی اور وہی غلطی پھر نکل آتی۔ پرانے طریقوں میں لوگ ڈھیر سارے تیار فقرے اور اصول جوڑتے تھے، مگر وہ بھاری بھی تھے اور ذرا سی نئی بات پر ٹوٹ جاتے تھے۔
نیا خیال یہ تھا کہ کام کو دو حصوں میں باندھ دیا جائے جو مثالیں دیکھ کر خود سیکھیں۔ پہلا حصہ پوری پرچی پڑھ کر ایک ہی جیب کارڈ جیسا خلاصہ بنائے۔ دوسرا حصہ اسی کارڈ کو دیکھ کر ترجمہ ایک ایک لفظ کر کے لکھے، جو لکھ چکا ہو اس کو بھی یاد رکھے۔ مطلب یہ کہ پرچی اصل جملہ ہے، جیب کارڈ سیکھا ہوا خلاصہ، اور لکھی ہوئی لائنیں ترجمہ۔ ایک جیب کارڈ بغیر ہاتھ کے بنے اصولوں کے پورا ترجمہ چلا دیتا ہے۔
پھر پتا چلا کہ گہرا بندوبست بہتر چلتا ہے۔ جیسے میل گاڑی میں ایک نہیں، کئی کلرک قطار میں ہوں اور ہر کلرک جیب کارڈ کو تھوڑا اور صاف کر دے، پھر وہ کارڈ لکھاری تک پہنچے۔ جب یہ تہیں زیادہ ہوئیں تو کارڈ بھی زیادہ ٹھیک بنا اور لفظ چننے میں بھی کم پھسلن رہی۔
ایک سیدھی سی چال نے سب کو چونکا دیا۔ کلرک نے پرچی الٹی کر کے پڑھنا شروع کر دیا، آخر سے آغاز کی طرف، مگر لکھاری نے ترجمہ معمول کے سیدھے ترتیب میں ہی لکھا۔ اس سے ضروری باتیں وقت میں قریب آ گئیں، جو چیز شروع میں لکھنی تھی وہ کلرک نے ابھی ابھی پڑھی ہوتی۔ یوں سیکھنے کو آسانی ہوئی، مطلب بدلے بغیر۔
جب یہی جوڑی بہت سارے جملوں پر چلائی گئی تو ترجمہ پہلے والے فقرہ-جوڑ طریقے سے بہتر لگنے لگا۔ یہ دوسری رائے کے طور پر بھی کام آئی: پرانا طریقہ چند ممکنہ ترجمے دے دیتا، یہ نیا طریقہ ان میں سے بہتر کو اوپر کر دیتا۔ اور اگر کوئی لفظ فہرست میں نہ ہو تو اسے UNKNOWN کی طرح نشان لگا کر باقی جملہ پھر بھی سنبھل جاتا، جیسے دھندلا نام دیکھ کر پارسل پر نامعلوم کی مہر لگ جاتی ہے۔
سفر کے آخر میں بات صاف تھی۔ پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ اچھا ترجمہ بنانے کو انسانوں کے لکھے ہوئے اصولوں کے ڈھیر چاہییں۔ میل گاڑی والوں نے دکھایا کہ ایک سیکھا ہوا جیب کارڈ، اور پھر اسی سے لفظ بہ لفظ لکھائی، کافی دور تک لے جاتی ہے، اور پرچی کو الٹا پڑھنا بھی مدد کر دیتا ہے۔