فلموں کی فہرست میں خاموش آوازیں کہاں گئیں؟
میلے کے دفتر میں ہلکی روشنی تھی۔ پروگرامر نے بٹن دبایا تو ہزاروں فلمیں ایک صاف سی فہرست میں اوپر نیچے لگ گئیں۔ رضاکار نے کہا، "پچھلے سال چھوٹے شہر کی خاموش فلم نے سب کو ہلا دیا تھا، اس بار ویسی فلمیں اوپر کیوں نہیں؟" یہی لائن نوکریوں میں بھی ہوتی ہے، درخواستیں فلمیں، چھانٹنے والا آلہ پہلا دروازہ۔
ٹیم نے فلم کے سفر کو قدم بہ قدم دیکھا۔ پہلے خبر پھیلتی ہے کہ فلمیں بھیجیں، پھر جلدی چھانٹی، پھر جیوری تک کم فلمیں پہنچتی ہیں، پھر شو کے بعد رائے بنتی ہے۔ بات یہ ہے کہ اگلے سال والا چھانٹنے والا آلہ پچھلے سال کی پسند سے سیکھتا ہے، تو پرانی کمی چپکے سے واپس آ جاتی ہے۔
کوآرڈینیٹر نے کہا، "کبھی کسی کی نیت خراب نہیں ہوتی، پھر بھی جھکاؤ آ جاتا ہے۔" بڑے ناموں کو زیادہ وزن ملتا ہے، جان پہچان کام آتی ہے، کچھ لوگ سفر نہیں کر سکتے، کچھ کو گھر کی ذمہ داریوں سے وقفہ آ جاتا ہے۔ پھر آلہ بھی چوک جاتا ہے، اعلان کچھ لوگوں تک زیادہ پہنچتا ہے، فارم کسی کے لیے مشکل، اور لوگ اس کے نمبر پر حد سے زیادہ بھروسا کر لیتے ہیں۔
جب انصاف چیک کرنے لگے تو پتا چلا سب الگ سوال پوچھ رہے تھے۔ کیا دعوتیں برابر بٹیں؟ کیا آلے کے نمبر سب کے لیے ایک جیسے ٹھیک نکلے؟ کیا کچھ لوگ فہرست میں اتنے نیچے گئے کہ کوئی دیکھ ہی نہ سکا؟ کبھی قبولیت ٹھیک لگتی ہے، لیکن اوپر کی چند جگہیں ہر سال ایک ہی طرح کی رہتی ہیں۔
پھر حلوں پر بحث ہوئی۔ چھانٹی سے پہلے کاغذات سے وہ نشانیاں ہٹائیں جو پہچان بتا دیں، یا آلے کو ایسی مثالیں دیں جن میں پرانی عادت کم ہو۔ چھانٹی کے دوران آلے کو نام، چہرے، لہجے جیسے آسان اشاروں پر کم چلائیں۔ فہرست بننے کے بعد اوپر کے صفحوں میں نمائندگی کے حساب سے ترتیب بدلیں، لیکن اس کے لیے اکثر لوگوں کی ذاتی باتیں جاننا پڑتی ہیں۔
ایک اور فکر بھی تھی۔ ریکارڈ زیادہ تر شروع کے مرحلوں کے ہوتے ہیں، بعد میں کیا ہوا، کم پتا چلتا ہے، کیا فلم ساز کو عزت ملی، کمائی ہوئی، یا کام جاری رکھ سکا۔ ان کی معلومات چند زبانوں اور ملکوں کے گرد گھومتی تھیں، کچھ پہچانیں تو لکھی ہی نہیں جاتیں۔ پھر اچانک کوئی بڑا جھٹکا سفر اور دیکھنے کی عادت بدل دے تو پچھلے سال کی جانچ بے کار ہو جاتی ہے۔
آخری رات کوآرڈینیٹر نے فہرست بنانے والے آلے کو واحد قصوروار سمجھنا چھوڑ دیا۔ نظر پورے راستے پر گئی، خبر کس تک پہنچی، کون شروع میں کٹ گیا، اوپر کون دکھا، اور بعد میں کیا ہوا جو اگلے سال کی چھانٹی کو لکھ دیتا ہے۔ اس نے کہا، "ویڈیو اور چہرے سے فیصلہ کرنے والے اوزار میں فرق زیادہ نکل سکتا ہے، تو وہاں ہاتھ ہلکا رکھنا چاہیے۔"