ایک مچھلی نے کونا لے لیا، اور مجھے معیشت یاد آ گئی
ایکویریم کھلنے سے پہلے میں بڑے نمکین ٹینک کے پاس رکا۔ پچھلے ہفتے سب ٹھیک تھا، آج ایک دلیر مچھلی نے بہترین کونا پکڑ لیا، چھوٹی مچھلیاں پتھروں کے پیچھے دبک گئیں، اور شیشہ صاف رکھنے والی جھینگا غائب تھی۔ یہ ٹینک مجھے معیشت جیسا لگتا ہے، سب ایک ہی جگہ سانس لیتے ہیں۔
کوئی دیکھنے والا کہہ دے، پانی دھندلا ہے تو بس فلٹر بدل دو۔ بات یہ ہے کہ جب مسئلے بار بار لوٹیں تو خرابی کسی ایک حادثے میں نہیں ہوتی، ٹینک کی ترتیب اور جانوروں کے بیچ کے اصول خود یہ حال بنا رہے ہوتے ہیں، چاہے کسی کی نیت نہ ہو۔
میں نے جیتنے ہارنے کے بجائے رشتوں کی ایک سادہ فہرست بنائی۔ کہیں دونوں کو فائدہ، جیسے مچھلی جھینگے کو برداشت کرے اور جھینگا اس کی صفائی کرے۔ کہیں ایک کو سہارا، جیسے پتھر کی اوٹ۔ کہیں نقصان، جیسے دھونس یا کاٹنا۔ یہی نظر معیشت پر رکھو تو اصل کہانی رشتوں کی قسموں میں ہے۔
پھر میں نے دیکھا چھوٹا سا دھکا کیسے بڑھتا ہے۔ جب ایک دھونس والی مچھلی خوراک پر قبضہ کرے تو کمزور مچھلیاں کائی نہیں چگتیں، کائی پھیلتی ہے، آکسیجن گرتی ہے، اور جو مچھلیاں پرسکون تھیں وہ بھی چڑچڑی ہو جاتی ہیں۔ نقصان والا رشتہ حالات بنا کر اور نقصان کھڑا کرتا ہے۔
میں نے دل ہی دل میں ٹینک کا ایک سادہ پیمانہ سوچا۔ مدد والے رشتے کتنے ہیں اور کتنے مضبوط، اور ٹینک میں کتنی طرح کی مخلوق بچی ہے، یہ سب ملا کر دیکھو۔ پھر اسے نقصان والے رشتوں کے وزن سے مقابلہ کرو۔ مدد بھاری ہو تو ٹینک جھٹکے سہہ لیتا ہے، نقصان بھاری ہو تو اچانک الٹ بھی سکتا ہے۔
شام کو میں نے یہ نہیں کہا کہ ٹینک میں مقابلہ ختم کر دو۔ کچھ کھینچا تانی رہتی ہے۔ فرق مقصد میں ہے، ٹینک ایسا رکھو کہ مدد والے رشتے عام ہوں اور نقصان والے رشتے حد میں رہیں۔ معیشت بھی ایسے ہی ہے، وہ سماجی اصولوں کے اندر چلتی ہے، اور سب کچھ اسی زمین اور پانی کی حدوں میں بندھا ہے۔