دو صندوق، ایک لیبل، اور چھپا ہوا راستہ
پردے کے پیچھے گرد اڑ رہی تھی۔ میں گھٹنوں کے بل بیٹھا دو صندوق دیکھ رہا تھا، دونوں پر ایک ہی لیبل بنا تھا۔ ایک اداکار کا، ایک دوسرے کا۔ پاس ہی جالی والا اسٹور تھا، تالا لگا، جہاں گم چیزیں جا کر چھپتی ہیں۔ مجھے اندازہ نہیں، کوئی ٹھوس پیمانہ چاہیے تھا کہ دونوں صندوق کتنے جڑے ہیں۔
سیدھا طریقہ تھکا دینے والا تھا۔ صندوق بی کو بار بار کھولو، سامان کو الگ الگ ڈھیروں میں بانٹو، پھر دیکھو کہ اس سے صندوق اے کی کتنی صاف تصویر بنتی ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ بانٹنے کے طریقے اتنے زیادہ تھے کہ صحیح جواب ڈھونڈنا قسمت جیسا لگتا تھا۔
پھر ایک نیا خیال آیا۔ ہر بار صندوق بی کو ٹٹولنے کے بجائے، میں نے ذہن میں پورے بیک اسٹیج کا نقشہ بنایا، جیسے چھپے راستے اور بند دروازے بھی اس میں دکھتے ہوں۔ اس نقشے میں صندوق اے اور بی کناروں پر تھے، اور جالی والا اسٹور باقی سارا سامان تھا۔ پھر میں نے اندر وہ سب سے تنگ گزرگاہ ڈھونڈی جو اے کو اسٹور سے الگ کرے۔ نتیجہ یہ کہ نقشے کی تنگ ترین رکاوٹ، بار بار چھانٹنے کی جگہ لے سکتی ہے۔
اسی تنگ گزرگاہ سے میں نے ایک سیدھا اندازہ بنایا۔ صندوق اے میں جو کچھ لگتا ہے، اس میں سے وہ حصہ نکال دو جو اب بھی جالی والے اسٹور کے ساتھ بندھا رہتا ہے۔ جو بچتا ہے، وہ وہ ربط ہے جو صندوق بی کو دیکھ کر ہاتھ آنے والا ہے۔ اور جو ربط پھر بھی بچ نکلے، وہ وہ حصہ ہے جو عام چھان بین سے نہیں پکڑا جاتا۔ نقشہ یہ بھی بتاتا ہے کہ جب میں کسی حصے کو بڑا کروں تو یہ تنگ راستے بے قابو نہیں بدل سکتے۔
کبھی بیک اسٹیج سادہ ہوتا تو جواب صاف ٹکڑوں میں آتا، اور اچانک بدل جاتا جب سب سے چھوٹا کٹ ایک راہداری سے دوسری پر چھلانگ لگا دیتا۔ کبھی منظر بہت گہرا اور پیچیدہ ہوتا، جیسے راستے اندر جا کر لپٹتے ہوں، تو ربط کئی مرحلوں سے گزرتا۔ ایک عجیب بات یہ تھی کہ گرمی بڑھنے پر صاف ملتے جلتے سامان جلد غائب ہو جاتا، مگر ایک باریک سا مشترک ترتیب کچھ دیر تک بڑھ بھی سکتی تھی۔
پھر میں نے اور باریک سوال کیا۔ اگر سب سے مضبوط جوڑی والا ربط گن کر نکال دیں تو کیا پھر بھی کوئی جڑ باقی رہتی ہے؟ نقشے میں یہ ایسے لگا جیسے صرف تنگ دروازہ نہیں، بلکہ وہ اضافی چکر بھی اہم ہیں جو تب بنتے ہیں جب صندوق اے، صندوق بی، اور جالی والا اسٹور تینوں مل کر ایک ہی ترتیب بناتے ہیں۔ کچھ ربط دو صندوقوں کی کہانی نہیں، تینوں کی مشترک گرہ ہے۔
آخر میں ایک آسان راستہ نکلا، جب ایسا نقشہ ہاتھ میں نہ بھی ہو۔ جیسے تھیٹر کی ایک آئینے والی فہرست بنا لو، ہر چیز کے سامنے اس کی ہم شکل درج کر دو، پھر دیکھو کہ یہ جڑی ہوئی فہرست صندوق اے اور بی کو کتنی مضبوطی سے باندھتی ہے، بغیر اس کے کہ صندوق بی کو ہر طرح سے چھانٹو۔ تب مجھے فرق صاف دکھا: پہلے میں ڈھیر لگاتا رہتا تھا، اب میں رکاوٹ اور آئینے کی مدد سے چھپی گرہیں بھی ناپ سکتا تھا۔