کوسٹم روم میں نام کی پرچی، اور یادداشت کی عجیب عادت
تھیٹر کے کوسٹم روم میں خاموشی تھی۔ میں ہینگرز پر لٹکے کپڑوں کے بیچ بھاگ رہا تھا، ہر ہینگر پر نام کی پرچی۔ ہدایتکار نے ایک اداکار کا نام پکارا، اور میں نے پھر غلط جوتے اٹھا لیے۔
یہ کمرہ ایک ایسے لکھنے والے کی طرح تھا جو اگلا لفظ چنتا ہے۔ اس کے پاس بہت سے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی فرضی کہانیاں تھیں: ہر نام کے ساتھ چند الگ باتیں، اور جملوں کا انداز ہر بار بدلتا رہتا، ترتیب بھی الٹ پلٹ۔
شروع میں وہ لکھنے والا آسان چیز سیکھ گیا: عام رواج۔ جیسے مجھے پتہ چل گیا کہ زیادہ تر لوگ سادہ جیکٹ اور گہرے رنگ کے جوتے رکھتے ہیں۔ یہ ٹھیک لگتا ہے، مگر اس سے یہ نہیں پتا چلتا کہ کس نام کے ساتھ کون سی چیز جڑی ہے۔
پھر ایک لمبا وقت آیا جب نام کے حساب سے درست چیز اٹھانا تقریباً نہیں بڑھا۔ میں پرچی دیکھتے ہوئے بھی وہی عام جوتے پکڑتا رہا، جیسے سب اداکار ایک جیسے ہوں۔ لوگ جتنے زیادہ ہوں، یہ رکاوٹ اتنی لمبی، کیونکہ ہر نام کم بار سامنے آتا۔ پرچی نام ہے، درازوں میں رکھی چیزیں اس نام کی باتیں، اور میری نظر کا رخ وہ عادت ہے جو فیصلہ کراتی ہے۔ سبق یہ کہ جب تک نظر واپس نام پر نہ جائے، نام سے بات کا جوڑ مضبوط نہیں بنتا۔
بدلا کوئی نیا کپڑا نہیں، بدلی میری نظر کی عادت۔ جیسے ہی میں جوتا اٹھانے لگتا، ایک پل کو پرچی پر نگاہ ٹھہرنے لگی۔ جب کسی نے مجھے بعد میں سیکھے ہوئے صحیح دیکھنے کے انداز پر چلایا تو میں تیزی سے درست چننے لگا؛ اور اگر پرانی غلط عادت پر چلایا تو میں پہلے سے بھی زیادہ بھٹک گیا۔
ریہرسل کا شیڈول بھی فرق ڈالتا ہے۔ اگر شروع میں ہر اداکار بہت کم آئے تو پرچی دیکھنے کی عادت دیر سے بنتی ہے۔ اگر چند اداکار پہلے زیادہ آئیں تو عادت جلد بن جاتی ہے، پھر باقی سب پر پھیلتی ہے۔ مگر اگر چند ہی پر بہت زور ہو جائے تو باقیوں میں غلطیاں بڑھتی ہیں، اس لیے پہلے چھوٹی کاسٹ، پھر پوری کاسٹ والا وارم اپ کام آتا ہے۔
ایک دن نیا اداکار آیا، جس کا نام میری فہرست میں نہیں تھا۔ میں نے رک کر پوچھنے کے بجائے پورے اعتماد سے کسی اور کے کپڑے پکڑا دیے۔ اور جب اگلے سیزن میں نئی کاسٹ جلدی سکھانی پڑی، پرانے جوڑ جلد مٹنے لگے جب تک پرانا شو بھی ساتھ ساتھ نہ دہرایا جائے۔ تب سمجھ آیا: یادداشت میں دو چیزیں ہیں، چیزیں کہاں رکھی ہیں اور نظر کس طرف جاتی ہے۔ نظر کی عادت پکی ہو سکتی ہے، مگر رکھی ہوئی جوڑیاں نازک رہتی ہیں۔