گودام میں شور تھا اور دیوار پر ٹمٹماتے بورڈ۔ مینیجر کے سامنے بہت سے ڈرائیور تیار کھڑے تھے، ہر چوک پر بائیں یا دائیں کا فیصلہ۔ اسے بہترین راستہ نہیں چاہیے تھا، بس بہت ساری پرچیاں چاہییں جو ایک ہی اصولوں کی کتاب سے نکلی لگیں۔
پہلے وہ حساب والے کلرکوں سے کہتا کہ کون سے راستے زیادہ بننے چاہییں، پھر ڈرائیوروں کی پرچیوں سے ملاتا۔ کم ڈرائیور ہوں تو چل جاتا ہے، لیکن جب چوک بڑھیں تو ممکنہ راستے اتنے ہو جاتے ہیں کہ فہرست بنانا ہی ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
نیا کام راستہ بدلنا نہیں تھا، گودام چلانے کا طریقہ بدلنا تھا۔ فرش پر قطاروں کے بیچ چھوٹے دروازے لگے: پڑوسی لینیں بس ایک لمحے کے لیے دروازہ کھول کر پرچی کا ہاتھ بدلیں، پھر دروازہ بند۔ اس آن آف سے کئی جگہ ایک ساتھ لین دین ہو سکا اور باقی لینیں پرسکون رہیں۔
تیزی کافی نہیں تھی، تیز گڑبڑ بھی ہو سکتی تھی۔ ٹیم نے ایک سادہ نمبر والا اسکور رکھا جو بتائے کہ پرچیوں کا ڈھیر اصولوں جیسا ہے یا بس بے ترتیب لکھائی۔ وہ چند پرچیاں اٹھاتے، انہی جیسی پرچیوں کا اندازہ چھوٹے، قابلِ حساب گودام سے ملا کر دیکھتے۔
جب بڑا بورڈ کلرکوں کے بس سے باہر ہوا تو ٹیم نے جان بوجھ کر گودام کو آسان شکلوں میں چلایا۔ کبھی ایک لائن کے دروازے بند کر کے گودام دو حصوں میں بانٹا، تاکہ دونوں حصے الگ الگ گنے جا سکیں۔ کبھی کچھ دروازے آدھے رکھے، بس اتنا کہ حساب پھر بھی ممکن رہے۔
پھر سخت ترین ڈیوٹی آئی: ڈرائیوروں نے بہت سے چوکوں سے گزر کر چند ہی منٹوں میں پرچیوں کے بڑے ڈھیر بنا دیے۔ کلرک سست نہیں تھے، مسئلہ یہ تھا کہ ہر نیا چوک راستوں کو پھیلانے لگتا ہے، اور لینوں کے ہاتھ بدلنے سے حساب کی گرہیں اور الجھ جاتی ہیں۔
شفٹ کے آخر میں مینیجر نے ایک خاموش فرق دیکھا۔ غلطیاں کسی ایک بڑے دھماکے کی طرح نہیں آئیں، چھوٹی چھوٹی مقامی چوکیں تھیں جو اندازے کے مطابق جمع ہو رہی تھیں۔ یہی پیکج نیا تھا: جالی والا فرش، پڑوسی دروازوں کا آن آف، اور ایسا اسکور جو بڑے گودام میں بھی اعتماد کی ایک کھڑکی کھول دے۔