جعلی اکاؤنٹس کا ڈرامہ: جب کردار ہی سراغ بن جائے
محلے کا ایک ڈرامہ گروپ کاسٹنگ کر رہا ہے۔ ایک اداکار میئر بنے گا، دوسرا استاد، تیسرا دکاندار۔ جو کردار ملا، پوری کہانی میں وہی نبھانا ہے۔ میئر اچانک ہوم ورک کی بات نہیں کر سکتا، دکاندار چالان نہیں کاٹ سکتا۔ یہی بات سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ ہوئی۔ ہر اکاؤنٹ نے ایک مخصوص امریکی آواز بننے کا فیصلہ کیا، اور اسی فیصلے نے اسے ایک مقررہ انداز میں باندھ دیا۔
دو ہزار سولہ کے آس پاس ایک بڑے پلیٹ فارم پر ہزاروں جعلی اکاؤنٹس عام امریکیوں کا روپ دھار کر بیٹھ گئے۔ پہلے لوگ بس یہ دیکھتے تھے کہ یہ اکاؤنٹ لبرل ہے یا قدامت پسند، خوف پھیلاتا ہے یا ہیش ٹیگ چلاتا ہے۔ لیکن کسی نے نہیں پوچھا کہ یہ اکاؤنٹ بن کون رہا ہے۔ اخبار؟ سماجی کارکن؟ محلے کا گروپ؟ بالکل ایسے جیسے اداکاروں کو ان کے مکالموں سے پرکھیں، لیکن ان کے کردار ہی نہ دیکھیں۔
نئی بات یہ تھی کہ ہر جعلی اکاؤنٹ کو اس کے سیاسی پیغام سے نہیں بلکہ اس کے چنے ہوئے کردار سے پہچانا جائے۔ چار کردار سامنے آئے۔ کچھ اکاؤنٹس چھوٹے شہر کے اخبار بنے، غیر جانبدار مقامی خبریں لگاتے۔ کچھ نے تنظیم یا تحریک کا روپ اپنایا۔ تیسرا گروپ پرجوش سیاسی شخصیت بنا۔ باقی عام لوگ بنے، موسم اور ٹی وی کی باتیں کرتے۔ ہر کردار کے اپنے اصول تھے۔
اور یہاں مزے کی بات ہے۔ ان جعلی اکاؤنٹس کی آدھی سے زیادہ پوسٹس سیاسی تھیں ہی نہیں۔ وہ چھلاوا تھیں: پیر کی شکایتیں، ٹی وی شوز پر رائے، فضول گپ شپ تاکہ اکاؤنٹ اصلی لگے۔ جیسے دکاندار کو تیسرے ایکٹ کا اہم مکالمہ بولنے سے پہلے شیلف سجانے اور گاہکوں کو سلام کرنا ضروری ہے۔ یہ چھلاوا ہر کردار کا الگ ہوتا ہے۔ جعلی اخبار موسم کی خبر لگائے گا، جعلی کارکن حوصلہ افزا اقتباسات شیئر کرے گا۔
اس خیال کو جانچنے کے لیے پہلے کچھ اکاؤنٹس کی پروفائل پڑھ کر انہیں ہاتھ سے چاروں کرداروں میں بانٹا گیا۔ پھر جن اکاؤنٹس کی پروفائل چھپی ہوئی تھی، ان کے استعمال کیے گئے ہیش ٹیگز کا نمونہ دیکھا اور قریب ترین کردار سے ملایا۔ سوچیں کہ اداکار کا لباس آدھا چھپا ہو، لیکن اس کے اشاروں اور اسٹیج پر چلنے کے انداز سے آپ پہچان لیں کہ یہ کون ہے۔
نتیجہ حیران کن تھا۔ کمپیوٹر نے اکاؤنٹ کا کردار اٹھاسی فیصد بار صحیح پہچانا۔ دوسرے ماہرین کے بنائے ہوئے الگ مجموعے پر نوے فیصد سے اوپر درستگی رہی۔ اور جب بالکل مختلف زبان والے اکاؤنٹس پر آزمایا تو وہی نمونے نظر آئے۔ دکاندار دکاندار ہی رہتا ہے، ڈرامہ انگریزی میں ہو یا روسی میں۔
یہ طریقہ اصلی اکاؤنٹس میں سے جعلی نہیں چھانٹتا۔ لیکن جب جعلی اکاؤنٹس مل جائیں تو یہ پورے نیٹ ورک کا نقشہ بنا دیتا ہے۔ کتنے اداکار کون سا کردار نبھا رہے ہیں، کس کردار کے سب سے زیادہ فالوورز ہیں، کون بات کرتا ہے اور کون صرف آواز بلند کرتا ہے۔ جعلی اخبار اور تنظیمیں بڑا سامعین جمع کرتیں لیکن جواب کم دیتیں۔ عام لوگ بنے اکاؤنٹس سب سے زیادہ بات چیت کرتے۔
اور ستم ظریفی دیکھیں۔ لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے ہر جعلی اکاؤنٹ کو وہی سماجی توقعات پوری کرنی پڑیں جو ایک اصلی شخص یا ادارہ پوری کرتا۔ اسی اطاعت نے اسٹیج پر قدموں کے نشان چھوڑ دیے۔ اصلی نظر آنے کی کوشش نے ہی پورے نیٹ ورک کو پڑھنے کے قابل بنا دیا۔ اور چونکہ کردار کے یہ نمونے زبان اور سرحد نہیں دیکھتے، یہ نظر کسی بھی ملک کی مہم پر لگائی جا سکتی ہے۔