ڈاک خانے کی میز نے جملوں کا بوجھ ہلکا کر دیا
ڈاک خانے میں لفافے ہی لفافے تھے۔ ایک ملازم ایک لفافہ پڑھتا، پھر اگلے پر جاتا تو پہلے والی بات بھولنے لگتا۔ پھر کسی نے لمبی میز لا کر سب لفافے پھیلا دیے، اور ہر لفافے پر ایک پرچی لگا دی کہ یہ قطار میں کہاں ہے۔
ایک ایک کر کے لفافے اٹھاؤ تو رفتار بندھی رہتی ہے، اور دور کی باتیں جڑ نہیں پاتیں۔ اوپر والا پتا بدلنے کا نوٹس نیچے والی ہدایت بدل سکتا ہے، مگر ملازم کو وہ بات سر میں سنبھال کر چلنا پڑتا ہے۔ جملوں میں بھی شروع کا لفظ آخر کی شکل بدل دیتا ہے۔
نیا خیال یہ تھا کہ میز پر پڑا ہر لفافہ ضرورت کے مطابق چند دوسرے لفافوں کی طرف فوراً اشارہ کر سکے۔ یعنی فیصلہ کرنے سے پہلے وہ بس اتنا دیکھے کہ کس سے مدد لینی ہے۔ یہی طریقہ لفظوں میں بھی چلتا ہے، ہر لفظ سب کو برابر نہیں دیکھتا، بس کام کی کڑی پکڑتا ہے۔ چھوٹا سا سبق یہ کہ صحیح ربط چن لو تو بوجھ کم ہو جاتا ہے۔
ایک مسئلہ یہ تھا کہ اگر لفافے پر بہت سی مہر اور نشان ہوں تو ایک تیز نظر آدمی کو حد سے زیادہ پکا کر دیتی ہے۔ تو وہاں ایک قاعدہ رکھا گیا کہ ایسے لفافے پر رائے ذرا نرم رکھی جائے، چند راستے کھلے رہیں۔ لفظوں والے کام میں بھی یہی نرمی فیصلے کو بے قابو ہونے سے بچاتی ہے۔
پھر ایک ہی آنکھ پر بھروسا نہیں رکھا گیا۔ ایک کلرک منزل دیکھتا، دوسرا فوری مہر، تیسرا بھیجنے والے کے اصول، سب ساتھ ساتھ۔ آخر میں سب کی بات ملا کر ٹوکری چنی جاتی۔ لفظوں میں بھی کئی چھوٹی نظر ایک بڑی نظر سے بہتر اشارے پکڑ لیتی ہے۔
میز والا طریقہ تیز تھا، مگر ترتیب یاد رکھنا لازم تھا۔ اس لیے ہر لفافے کی پرچی پر اس کی جگہ صاف لکھی رہی، تاکہ سب پھیلا کر بھی معلوم رہے کون پہلے آیا کون بعد میں۔ اندر کے کام میں کچھ اضافی سہارا بھی ہوتا ہے، جیسے میز کے کناروں پر مضبوط پٹیاں، تاکہ بار بار کرتے ہوئے ترتیب بگڑے نہیں۔
اب کسی کو ایک لفافہ ختم ہونے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا، سب لفافے ایک ساتھ آگے بڑھتے تھے۔ دور دور کی باتیں بھی فوراً جڑ جاتی تھیں، اور پرچیوں کی وجہ سے قطار بھی نہیں ٹوٹتی تھی۔ پرانی لائن میں قدم قدم پر رکاوٹ تھی، میز والے طریقے میں ربط ہاتھ میں آ گیا، اور کام ہلکا لگنے لگا۔