گرین ہاؤس کی پہیلی
سارہ ایک وسیع و عریض گرین ہاؤس میں کھڑی ہے۔ اس کا مشن ہزاروں نایاب پودوں کے آپس میں تعلق کو سمجھنا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی کام کرنے والی میز بہت چھوٹی ہے جس پر صرف چند گمے آ سکتے ہیں، جبکہ پودوں کا اصل ذخیرہ تہہ خانے میں بنے ایک دور دراز کمرے میں بند ہے۔
اصل رکاوٹ سارہ کی مہارت نہیں، بلکہ وہ فاصلہ ہے۔ ایک پودے کا دوسرے پر اثر دیکھنے کے لیے وہ بار بار تہہ خانے بھاگتی ہے اور ٹرے لا کر میز پر رکھتی ہے۔ اسے احساس ہوا کہ اس کا سارا وقت سائنس پر نہیں بلکہ خالی برآمدوں میں چلنے میں ضائع ہو رہا ہے۔
اس نے بھاگ دوڑ ختم کرنے کا ایک نیا طریقہ نکالا۔ اب وہ بے ترتیب پودے نہیں لاتی، بلکہ پودوں کا وہ گروپ لاتی ہے جو اس کی میز پر پورا آ جائے۔ وہ ان کو واپس بھیجنے سے پہلے ان کے تمام ممکنہ جوڑ وہیں میز پر مکمل کر لیتی ہے۔ اس طرح تہہ خانے کے ہزاروں چکر بچ گئے۔
اس نے اپنا بھاری بھرکم رجسٹر بھی ساتھ رکھنا چھوڑ دیا۔ وہ رجسٹر اٹھا کر لانا بہت سست کام تھا۔ اب اگر اسے کوئی پرانا نتیجہ چاہیے ہو، تو وہ پودے کو دیکھ کر فوراً ذہن میں حساب لگا لیتی ہے۔ دوبارہ سوچنا پلک جھپکنے کا کام ہے، جبکہ بھاری کتاب ڈھونا وقت کا ضیاع تھا۔
فضول سفر اور بھاری کتاب سے جان چھوٹی تو کام کی رفتار کئی گنا بڑھ گئی۔ اب وہ میلوں تک پھیلے باغات کو سنبھال سکتی ہے۔ یہ وہ پیچیدہ نمونے ہیں جو پہلے نظر نہیں آتے تھے کیونکہ سارا وقت تو صرف آنے جانے میں گزر جاتا تھا۔