رات کی لمبی ٹرین اور کنڈکٹر کی چھوٹی نوٹ بک
رات کی ٹرین میں کنڈکٹر اگلے ڈبّے میں گیا۔ ایک ہاتھ میں ٹکٹ اسکینر، دوسرے میں چھوٹی نوٹ بک۔ کوئی سیٹ بدلتا ہے، کوئی بچہ ساتھ ہے، کوئی اگلے اسٹیشن پر بدلاؤ۔ اتنی باتیں ہیں کہ سب کچھ ساتھ اٹھانا ممکن نہیں۔
پہلے وہ ہر مسافر پر ایک ہی چیک لسٹ چلاتا تھا۔ کام تیز ہو جاتا تھا، مگر جب ٹکٹ ذرا الگ نکلتا تو گڑبڑ۔ کبھی پچھلی ایک بات یاد رکھنی ہوتی، اور پانچ باتیں بھولنی۔ پرانے تیز سسٹم بھی ایسے ہی تھے، ہر قدم پر ایک ہی اندرونی اصول۔
پھر اس نے نوٹ بک کا طریقہ بدل دیا۔ ٹکٹ پر ایک نشان دیکھ کر وہ طے کرتا کہ پچھلا نوٹ مضبوط پکڑنا ہے، ہلکا کرنا ہے، یا مٹا کر نیا لکھنا ہے۔ نقشہ صاف ہے: نوٹ بک کا چلتا نوٹ اندر کی یاد، ہر ٹکٹ نئی بات، اور بدلتی چیک لسٹ وہ ہاتھ ہے جو فیصلہ کرتا ہے۔ سبق یہ کہ رفتار نہیں، صحیح وقت پر صحیح یاد۔
لیکن مسئلہ آیا۔ اگر ہر مسافر پر چیک لسٹ بدلتی رہے تو پہلے سے ایک جیسے فارم بنا کر تیزی سے بھر نہیں سکتے۔ اس نے چال یہ نکالی کہ اصل حساب اپنی ہتھیلی جتنی جگہ پر کرتا، اور کبھی کبھار ہی بڑے رجسٹر میں صاف نقل کرتا۔ یعنی اندر کی باریکیاں ہر بار باہر نہیں لکھتا، بس جتنا اگلے قدم کے لیے چاہیے۔
کچھ ٹرینیں تو ایسی ہیں جیسے سفر ختم ہی نہیں ہوتا۔ کچھ طریقے بار بار پیچھے کے ٹکٹ دیکھتے رہتے ہیں، اور نوٹوں کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ اس نئے انداز میں کنڈکٹر بس آگے چلتا رہتا ہے۔ ہر نئے ٹکٹ پر تقریباً اتنی ہی محنت لگتی ہے جتنی پچھلے پر، اور پیچھے کی لمبی فہرست ساتھ گھسیٹنی نہیں پڑتی۔
ہر ڈبّہ ایک جیسا نہیں۔ باتونی مسافروں والے ڈبّے میں معنی اور استثنا بہت ہوتے ہیں، تو یہ بدلتی نوٹ بک خوب چلتی ہے۔ جہاں ٹکٹ سب ایک جیسے لگیں، وہاں بار بار کی باتیں چھانٹنی پڑتی ہیں اور کوئی نایاب نشان پکڑ کر رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن پہیوں کی مسلسل کھڑکھڑاہٹ جیسی سیدھی آوازوں کے پاس کبھی کبھی ایک ہی جیسا معمول بھی فائدہ دیتا ہے۔
آخری اسٹیشن پر کنڈکٹر کی نوٹ بک بھری نہیں تھی، بس سمجھدار تھی۔ وہ ایک ہی سمت چلتا رہا، چھوٹی سی یاد رکھتا رہا، اور ہر قدم پر طے کرتا رہا کہ کیا رکھنا ہے اور کیا چھوڑنا ہے، سفر جتنا بھی لمبا ہو۔ پہلے خیال تھا کہ لمبی بات سمجھنے کے لیے پیچھے بار بار دیکھنا پڑے گا، مگر یہاں آگے بڑھتے ہوئے بھی کام چل گیا۔