جب سب ایک ساتھ بولیں تو خبر کہاں جاتی ہے؟
سمندر کنارے والے ٹاؤن ہال میں طوفان کی مشق شروع ہونے لگی۔ درجنوں رضاکار ایک ہی چینل پر ریڈیو اٹھا کر بول پڑے، پل، ساحل، پناہ گاہ، کھیت سب کی آوازیں گڈمڈ۔ کوآرڈینیٹر نے دیوار پر نقشہ چپکایا اور تین سادہ اصول دکھائے۔
کوآرڈینیٹر نے پچھلی بار کی غلطی یاد دلائی۔ ہر بندہ ہر بندے کو سیدھا کال کرتا رہا۔ تھوڑے لوگ ہوں تو بھی شور، زیادہ ہوں تو ناممکن۔ لمبی باتیں کٹ جاتیں، دور کی اہم خبر صحیح کان تک وقت پر نہیں پہنچتی۔
اس بار پلان بدل گیا۔ چند ڈسپیچر بیچ میں بیٹھے، سب کی بات سن سکتے تھے اور سب انہیں پکڑ سکتے تھے۔ باقی لوگ زیادہ تر اپنے علاقے کے اندر بات کرتے، جیسے محلے کی گلی میں خبر پھیلتی ہے۔ اور کبھی کبھار ہر علاقہ دور کے کسی ایک علاقے کو اچانک چیک اِن کر لیتا۔
نقشہ صاف تھا۔ رضاکار لفظوں جیسے ہیں، ریڈیو لنک وہ راستے ہیں جن سے خبر گزرتی ہے۔ مقصد یہ کہ لمبی بات میں معنی دور تک پہنچے، بغیر اس کے کہ سب ایک دوسرے کے سر پر چڑھ جائیں۔ سبق یہ کہ چند سب سے جڑے مرکز، پاس کی بات چیت، اور کبھی کبھار دور کی چھلانگ کافی ہوتی ہے۔
مشق میں دریا کنارے والا رضاکار پانی بڑھنے کی خبر اپنے علاقے کے لیڈ کو دیتا ہے، وہ ڈسپیچر تک پہنچاتا ہے۔ ڈسپیچر چند لفظوں میں خلاصہ کرکے شہر کے دوسری طرف پناہ گاہ کو بتا دیتا ہے۔ پناہ گاہ والا سڑک بند ہونے کی بات واپس بھیج دیتا ہے، اور پلان بدل جاتا ہے۔
آخر میں کسی نے پوچھا، اگر فوراً ہر علاقے کو ہر علاقے سے ملا کر فرق نکالنا ہو تو؟ کوآرڈینیٹر نے کندھے اچکائے، تب یہ سادہ نیٹ ورک سست پڑ سکتا ہے، کیونکہ کچھ باتیں سیدھی نہیں جاتیں، کئی مرحلوں میں گھوم کر پہنچتی ہیں۔
لیکن فائدہ واضح تھا۔ اسی کمرے میں، انہی ریڈیوز کے ساتھ، زیادہ بڑا ہجوم بھی سنبھل گیا کیونکہ زیادہ تر بات محلے میں رہی اور بڑے فیصلے ڈسپیچر کے چھوٹے خلاصوں سے بنے۔ یہی خیال لمبی تحریر یا ڈی این اے جیسے لمبے سلسلے میں کام آتا ہے: ہر چیز کو ہر چیز سے جوڑنا ضروری نہیں، بس رابطہ سمجھداری سے بچھانا ہوتا ہے۔