تھیٹر کی ٹیم اور تھوڑی سی گنجائش کا کمال
ہال ابھی آدھا اندھیرا تھا۔ اسٹیج مینیجر نے لابی سے چند رضاکار بلائے اور دل میں گنا کہ کیا انہی میں اتنے لوگ نکل آئیں گے جو بتی، مائیک اور دروازے سب سنبھال لیں۔ پوری رات اس بات پر ٹکی تھی کہ سب سے چھوٹی مگر پوری ٹیم مل جائے۔
کئی مشکل تلاشیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ایک بار ٹھیک ٹیم مل جائے تو اس میں اور لوگ جوڑنے سے کام نہیں بگڑتا، مسئلہ بس یہ ہوتا ہے کہ سب سے چھوٹی پوری ٹیم کیسے ڈھونڈی جائے۔ پرانے تیز طریقے ایسے تھے جیسے شروع میں پکڑا گیا ہر آدمی اسی چھپی ہوئی بہترین ٹیم کا حصہ ہو۔ ورنہ پھر فہرست پر فہرست دیکھتے جاؤ۔
نئی بات یہ آئی کہ اگر جواب بالکل ناپ تول کا نہ بھی ہو، صرف قریب قریب اچھا ہو، تو شروع کی پکڑ کامل ہونا ضروری نہیں۔ اسٹیج مینیجر کو پہلے جتھے میں بس اتنے اہم لوگ چاہییں کہ باقی کام بعد میں پورا ہو سکے۔ یہاں رضاکار ممکنہ چناؤ ہیں، چھپی ہوئی اصل ٹیم سب سے چھوٹا درست حل ہے، اور ذرا بڑی ٹیم وہ جواب ہے جسے مانا جا سکتا ہے۔ سادہ بات یہ ہے کہ آدھی بنی بات بھی اب کام کی ہے۔
یہاں قسمت کا مزاج بدل جاتا ہے۔ اگر شروع میں زیادہ لوگ الگ کر لو تو آخر میں بچا ہوا کام چھوٹا رہتا ہے، لیکن پھر اتنے ضروری لوگ ہاتھ آنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ نیا ڈھانچا یہی نکتہ پکڑتا ہے کہ کس جگہ ایک اور نام اٹھانا فائدے کے بجائے بوجھ بن جاتا ہے۔ اور جب تھوڑی سی گنجائش ہو، یہ راستہ پرانے ٹھیک ٹھیک جواب والے راستوں سے تیز پڑتا ہے۔
بات صرف اتفاق پر نہیں رکی۔ اسٹیج مینیجر پہلے سے چھوٹی چھوٹی فہرستیں بھی بنا سکتا ہے، ایسی کہ کسی بھی چھپی ہوئی اصل ٹیم کے لیے کم از کم ایک فہرست کافی اہم لوگ سمیٹ لے۔ یوں بغیر اندھی قسمت کے بھی قریب ترین اچھی ٹیم جلدی مل سکتی ہے۔
اسی سوچ نے کئی مشکل کاموں میں رفتار بہتر کی۔ کچھ جگہ بہت چھوٹا سا فرق دکھا، مگر بار بار بڑھنے والی تلاش میں یہی باریک کٹ بڑی بن جاتی ہے۔ پہلے خیال تھا کہ ذرا سی ڈھیل بس سمجھوتا ہے۔ آخر میں پتا چلا، یہی ڈھیل شروع کے اندازے بدل دیتی ہے، اور وہی قریب ترین اچھے جواب تک جلدی پہنچاتی ہے۔