ریت پر پھیلا بادبان اور وہ چال جو بڑے کام کو سنبھال لیتی ہے
ساحل کی ورکشاپ میں آدھا سلا ہوا بادبان ہوا سے پٹخ رہا تھا۔اکیلا آدمی اسے سیدھا نہیں بچھا سکتا تھا، تو سب نے ریت میں الگ الگ حصے پن کر دیے۔ہر کوئی اپنا حصہ سیتا، پھر جوڑ پر کنارے ملا کر دھاگا اتنا کھینچتے کہ کھنچاؤ برابر رہے۔
بڑے زبان والے کمپیوٹر کو سکھاتے وقت بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ایک مشین کے پاس جگہ کم پڑ جاتی ہے، صرف اصل گنتی کے لیے نہیں، سیکھتے وقت بننے والی اضافی گنتی کے لیے بھی۔پہلے لوگ یا تو کام چھوٹا رکھتے، یا اسے یوں بانٹتے کہ مشینیں بار بار ایک دوسرے کا انتظار کرتی رہتیں۔
نیا خیال یہ نکلا کہ بانٹ صرف بڑے حصوں پر نہ ہو، ہر دہرائے جانے والے حصے کے اندر بھی ہو۔بادبان میں ہر کپڑے کا ٹکڑا اس حصے کے اندر کی گنتی کا ایک کٹا ہوا ٹکڑا ہے۔سلائی کی ہر لائن بڑی گنتی کے ایک ٹکڑے جیسی ہے۔اور جوڑ پر ملانا وہ لمحہ ہے جب مشینیں اپنا آدھا نتیجہ جوڑ کر ایک بناتی ہیں۔
اس کے اندر دو بھاری کام ہوتے ہیں۔ایک چوڑا حصہ جو جملے کو آگے بڑھاتا ہے، اور ایک حصہ جو جملے کے مختلف لفظوں پر دھیان بٹاتا ہے۔بانٹ ایسے کی جاتی ہے کہ ہر مشین پہلے اپنا حصہ پورا کر لے، جیسے کوئی کاریگر اپنے پینل کو سرے سے سرے تک سی لے، پھر ہی جوڑ پر ملان ہو۔
بار بار جوڑ پر ملنے سے بچنے کو کچھ چھوٹے کام سب مشینوں پر ایک جیسے دہرائے جاتے ہیں، جیسے ہر کاریگر کے پاس اپنی ناپ کی ٹیپ ہو۔آخر میں لفظ چننے والا مرحلہ بھی ایسے رکھا جاتا ہے کہ بہت بڑی فہرستیں ادھر ادھر نہ بھیجنی پڑیں، بس اتنا ملا لیا جائے جتنا ضروری ہو۔
جب ٹیم نے مددگار مشینیں بڑھائیں تو ساحل پر افراتفری نہیں ہوئی، بادبان بس بڑا ہوتا گیا۔کم انتظار کے ساتھ کام چلتا رہا، اور بڑے نظام عام لکھے ہوئے متن پر کم چونکتے تھے۔آخر میں جوڑ پر ناپ پہلے، کساؤ بعد میں رکھنے سے بڑے سائز پر بھی کپڑا شکنوں کے بغیر بیٹھا رہتا تھا۔