نیلے دروازے تک کا مشکل سفر
ایک پرانے شہر کا تصور کریں جہاں گلیوں کا ایسا جال ہے کہ انسان کھو جائے۔ ایک ڈلیوری والا شہر کے دروازے پر کھڑا ہے اور اسے اس بھول بھلیوں کے بیچ ایک چھپے ہوئے نیلے دروازے تک پہنچنا ہے۔ یہ ڈلیوری والا ہمارا کمپیوٹر سسٹم ہے اور وہ ٹیڑھی گلیوں والا شہر ایک مشکل سوال۔
عام طور پر کلائنٹ چاہتا ہے کہ پارسل دیا اور وہ پلک جھپکتے منزل پر پہنچ جائے۔ اگر گھر سیدھی سڑک پر ہو تو یہ طریقہ چل جاتا ہے۔ لیکن اس چھپے ہوئے نیلے دروازے کے لیے جلد بازی کام نہیں آتی، اور ڈلیوری والا تکے لگا کر کسی غلط محلے میں جا نکلتا ہے۔
اب ایک نیا اصول بنایا گیا ہے۔ اندھا دھند بھاگنے کے بجائے، اسے اپنا راستہ اونچی آواز میں بولنا پڑتا ہے۔ وہ کہتا ہے: "پہلے میں بیکری سے گزروں گا، پھر فوارے سے بائیں مڑوں گا، اور پھر دس قدم سیدھا جاؤں گا۔"
جب وہ راستہ بول کر طے کرتا ہے، تو ناممکن سفر چھوٹے اور آسان ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ اب وہ پورے شہر کو ایک ساتھ حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا، بلکہ صرف اگلا موڑ دیکھ رہا ہے۔ یوں منزل خود بخود منطقی طور پر سامنے آ جاتی ہے۔
لیکن اس میں ایک مسئلہ ہے۔ یہ طریقہ صرف اس پرانے تجربہ کار کے لیے ہے جو شہر کے نقشے کو زبانی جانتا ہو۔ نیا اور اناڑی ڈلیوری والا اگر یہ کرے تو وہ بھٹک جاتا ہے، اور اعتماد سے ایسے پل یا مجسمے کا ذکر کرتا ہے جو وہاں موجود ہی نہیں۔
تجربہ کار کے لیے، "کام دکھانے" کی یہ سادہ عادت ان راستوں کو بھی کھول دیتی ہے جو پہلے ناممکن لگتے تھے۔ مشکل ترین مسائل کا حل صرف رفتار میں نہیں، بلکہ سوال اور جواب کے درمیان صبر سے قدم جمانے میں ہے۔