ایک عمارت، بہت سے دروازے، اور راستہ یاد رکھنے کی چال
ڈرائیور نے گاڑی روکی۔ سامنے بڑی سی رہائشی عمارت، دروازوں کی قطاریں، اور پیکٹوں کا ڈھیر۔ ڈرائیور نے کاغذ پر راستہ بنایا، پھر ہر چکر کے بعد تھوڑا بدلتا گیا۔ یہی عادت ایک پیش گوئی کرنے والے اوزار جیسی ہے، غلطیوں سے سیکھ کر اگلا قدم بہتر کرنا۔
جلدی مشکل آ گئی۔ کہیں نمبر غائب، کہیں ایک جیسے دروازے، اور عمارت اتنی بڑی کہ فون والا نقشہ ہچکولے کھانے لگا۔ اگر ڈرائیور پہلے ہی ہر راہداری آزمانے لگے تو پیکٹ کبھی نہ پہنچیں۔ کچھ فیصلے کرنے والے اوزار بھی ایسے ہی بھاری ہو جاتے ہیں جب معلومات بہت ہوں اور خانے خالی ہوں۔
ڈرائیور نے نیا کام کیا۔ ہر دروازے پر رکنے کے بجائے اس نے چند پہچانی جگہیں چن لیں، جیسے لفٹ کے پاس والا موڑ یا کونے کی کھڑکی۔ انہی نشانوں سے وہ اگلا بڑا موڑ طے کرتا۔ یہ نشان ڈرائیور کے لیے وہی ہیں جو اوزار کے لیے اچھے موڑ کے اندازے ہیں۔ سبق یہ کہ بڑی جگہ کو چھوٹی، کارآمد فہرست میں سمیٹو۔
جہاں نمبر نہیں تھا، ڈرائیور نے ایک سادہ اصول رکھا۔ پہلے بائیں، مگر اگر اس سے وقت ضائع ہو تو فوراً دائیں۔ اوزار بھی خالی خانوں کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے، ہر چوراہے پر خود طے کرتا ہے کہ غائب چیزیں کس طرف جائیں، اور صرف وہی اندراج دیکھتا ہے جو واقعی موجود ہوں۔ نتیجہ یہ کہ خالی جگہ وزن نہیں بنتی۔
پھر ڈرائیور نے نوٹس کو منزل اور راہداری کے حساب سے ایک بار ترتیب دیا، اور سارا دن اسی ترتیب سے چلا۔ فون میں جگہ کم پڑی تو کچھ نقشے گاڑی میں رکھے، لفٹ کے پاس کھڑے ہو کر ڈھونڈنے کے بجائے پہلے سے نکال لیتا۔ اوزار بھی معلومات کو ایسے سجاتا ہے کہ بار بار الٹ پلٹ کم ہو، اور ضرورت پڑے تو باہر سے ٹکڑوں میں اٹھا لے۔
شفٹ کے آخر میں کام وہی تھا، پیکٹ صحیح دروازے تک۔ مگر اب ڈرائیور ہر راہداری دوبارہ نہیں دیکھ رہا تھا، غائب نمبروں پر اٹک نہیں رہا تھا، اور فون کی تنگی سے رک نہیں رہا تھا۔ یہی فرق اس طرح کے اوزار میں ہوتا ہے، قدم بہ قدم فیصلہ تو وہی، بس اسے چلانے کی سمجھ داری بدل جاتی ہے۔