کپتان نے شور میں سے کس کی سننی ہے، یہ کیسے سیکھا
شام ڈھل رہی تھی اور چھوٹی ریسکیو کشتی لہروں میں ہل رہی تھی۔ ریڈیو پر آوازیں چڑھ دوڑیں: کسی نے بہتا لکڑی کا ٹکڑا دیکھا، کسی کو دور ایک ٹمٹماتی روشنی ملی، کوئی بس ہوا پر بات کر رہا تھا۔ کپتان نے کچھ آوازیں اونچی کیں، کچھ دبی رکھیں۔
کپتان نے سوچا، اگر ہر آواز کو برابر رکھوں تو فیصلہ گڈمڈ ہو جائے گا۔ پرانے طریقے میں یہی ہوتا ہے: جو بھی پاس ہے، سب کو ایک جیسا وزن دے دو، یا بس گن لو کہ کتنے پڑوسی ہیں۔ آسان ہے، لیکن اکثر غلط جگہ زور پڑ جاتا ہے۔
پھر ایک نیا خیال آیا جو محلے جیسی جڑی ہوئی چیزوں پر چلتا ہے۔ ہر کشتی اپنے پاس کی چھوٹی سی معلومات کو ایک ہی انداز میں لکھتی ہے تاکہ باتیں آپس میں مل سکیں۔ پھر کپتان ہر قریبی کشتی کے لیے جلدی سے اندازہ لگاتا ہے کہ اس وقت اس کی بات کتنی کام کی ہے۔
وہ اندازے صاف حصوں میں بدل جاتے ہیں، جیسے توجہ کے حصے، اور سب حصے مل کر پورا بنتے ہیں۔ کپتان قریبی کشتیوں کی باتیں جوڑتا ہے، مگر ہر ایک کو اسی کے حصے کے حساب سے۔ پھر اس ملا ہوا نقشہ کپتان کے سامنے نئی تازہ صورتِ حال بن جاتا ہے۔ سادہ بات: سسٹم خود سیکھتا ہے کس کی سننی ہے۔
کپتان ایک ہی ریڈیو پر نہیں ٹکتا۔ وہ کئی چینل ساتھ چلاتا ہے، جیسے ایک چینل فاصلے پر دھیان دے، دوسرا فوری خطرے پر، تیسرا ملتی جلتی حالت پر۔ درمیان میں وہ سب اشارے ساتھ ساتھ رکھتا ہے، آخر میں انہیں ملا کر ایک متوازن فیصلہ بناتا ہے۔
کپتان کو ڈر تھا کہ کہیں وہ کسی ایک اونچی آواز کا عادی نہ ہو جائے۔ تو مشق کے دوران وہ کبھی کبھی کچھ رابطے جان بوجھ کر بند کر دیتا ہے، جیسے اچانک ایک چینل کٹ گیا ہو۔ اس سے عادت بنتی ہے کہ کم خبر میں بھی راستہ نکل آئے، اور ادھوری باتوں سے بھی کام چل جائے۔
جب یہی انداز جڑی ہوئی چیزوں پر آزمایا گیا، تو برابر سننے والے طریقے سے بہتر کام کرنے لگا۔ خاص طور پر وہاں جہاں نیا جال سامنے آتا ہے، جیسے پروٹین ایک دوسرے پر اثر ڈالیں اور نقشہ بدل جائے۔ فرق یہ نہیں تھا کہ آوازیں زیادہ ہو گئیں، فرق یہ تھا کہ اسی شور میں سے صحیح آواز کا وزن سیکھ لیا گیا۔