میوزیم کا دروازہ اور وہ کارڈ جو جواب بدل دیتا ہے
میوزیم کی خاموش گیلری میں میں پرانا سکہ دکھا رہا تھا کہ ایک مہمان نے پوچھا، "اس سال ملک کون چلا رہا تھا؟" میری باتیں رٹی ہوئی تھیں۔ پیچھے ایک چھوٹا دروازہ تھا، اندر درازوں میں کارڈ۔ میں یا تو اندازہ لگا لوں، یا بٹن دبا کر درست کارڈ منگوا لوں۔
بہت سی لکھنے والی مشینیں بھی ایسی ہی ہیں۔ بات خوب کرتی ہیں، مگر یاد اندر بند ہوتی ہے۔ سوال ذرا خاص ہو جائے یا دنیا بدل جائے تو بھی جواب چلتا رہتا ہے، اور غلطی بھی پورے یقین کے ساتھ نکل سکتی ہے۔ پھر یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کہ بات کہاں سے آئی۔
نیا موڑ یہ ہے کہ مشین کے ساتھ باہر کی یاد بھی رکھ دی جائے، بالکل ان درازوں جیسے کارڈ۔ سوال آئے تو ایک تیز مددگار چند کارڈ ڈھونڈ لاتا ہے، اور لکھنے والا حصہ انہی کو دیکھ کر جواب بناتا ہے۔ سوال مہمان ہے، درازیں چھوٹے مضمون ہیں، کلرک ڈھونڈنے والا، گائیڈ لکھنے والا۔ سادہ بات: ہر چیز یاد ہونے کا ڈرامہ نہیں کرنا پڑتا۔
چالاکی یہ تھی کہ کسی انسان کو ہر سوال کے لیے صحیح درازہ چن کر نہ دینا پڑے۔ نظام خود چند ممکنہ کارڈ کھینچتا، جواب لکھتا، پھر دیکھتا کہ جواب ٹھیک بیٹھا یا نہیں۔ وقت کے ساتھ ڈھونڈنے والا حصہ بہتر ہو جاتا ہے، جیسے کلرک مہمان کی بات سمجھنے میں تیز ہو جائے، مگر درازوں کے لیبل وہی رہیں۔
پھر گائیڈ کے کارڈ استعمال کرنے کے دو انداز نکلے۔ ایک میں پورے جواب کے لیے ایک ہی کارڈ پکڑ لیا، جیسے لمبی بات سے پہلے ایک پرچی چن لی ہو۔ دوسرے میں گائیڈ ہر اگلا لفظ بناتے ہوئے مختلف کارڈ جھانک لیتا، جیسے بار بار نئی پرچی دیکھنا۔ ایک انداز میں جواب زیادہ سیدھا رہتا، دوسرے میں بکھری باتیں بھی سنبھل جاتی ہیں۔
جب سخت سوالوں پر اسے آزمایا گیا تو یہ طریقہ جم گیا۔ کئی موضوعات سے سوال، مختصر سمجھانا، معلوماتی سوال بنانا، اور یہ پرکھنا کہ کوئی بات ثبوت سے ملتی ہے یا نہیں۔ صرف اندر کی یاد پر چلنے والی مشین کے مقابلے میں یہ زیادہ بار درست حقیقت تک پہنچتی ہے اور کم چیزیں گھڑتی ہے۔ کبھی یہ کئی کارڈوں کے اشارے جوڑ کر بھی ٹھیک جواب نکال لیتی ہے۔
میوزیم میں اس سال کی نئی فہرست والے کارڈ آ گئے۔ مجھے مہینوں دوبارہ رٹنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ بس اندر والی درازیں بدلیں، اور میں وہی روانی سے بات کرتا رہا، ساتھ یہ بھی دکھا سکتا تھا کہ کون سا کارڈ کہاں سے آیا۔ بند یاد والی میٹھی آواز کے بجائے، اب آواز کے ساتھ کھلا سہارا تھا۔