پارسلوں کی بیلٹ پر ایک عجیب سی مشق
رات کی شفٹ میں گودام کی بیلٹ چل رہی تھی۔ ڈبے روشنی کے نیچے پھسلتے جا رہے تھے۔ سپروائزر نے نئی مشق رکھی: ایک نو آموز چپکے سے کچھ پتوں والے لیبل اتار کر ملتے جلتے، بس ذرا غلط، لیبل لگا رہا تھا۔ آخر میں ایک سینئر ہر ڈبے پر ٹھک ٹھک کر کے کہہ رہا تھا: اصلی یا بدلا ہوا؟
سپروائزر نے کہا، پرانی مشق میں ہم چند ڈبوں پر بڑا سا خالی اسٹیکر لگا دیتے تھے اور کہتے تھے پتہ خود لکھو۔ اس سے سیکھ تو ہوتے تھے، مگر بیلٹ کے زیادہ ڈبے بس گزر جاتے تھے۔ اور اصل زندگی میں کوئی ڈبہ خالی اسٹیکر لگا کر نہیں آتا کہ میرا لیبل غائب ہے۔
نئی مشق میں کام الٹا ہو گیا۔ اب سینئر کو ہر ڈبے پر بس ایک ہاں یا نہ کرنی تھی: کیا یہ لیبل اسی ڈبے کا ہے یا نو آموز نے بدل دیا؟ یہاں ڈبے ایسے ہیں جیسے لائن میں لفظوں کی جگہیں، اور لیبل بدلنا ایسے جیسے لفظ بدل دینا۔ سبق یہ کہ جب ہر جگہ پر فیصلہ کرنا پڑے تو سیکھنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔
نو آموز کو چالاک بھی رہنا تھا اور حد سے زیادہ بھی نہیں۔ اگر وہ اتنے پرفیکٹ لیبل بنا دے کہ فرق ہی نہ لگے تو سینئر اصل پتوں کے بجائے نو آموز کی عادتیں پکڑنے لگتا۔ تو سپروائزر نے نو آموز کو محدود فہرست دی، سینئر کو زیادہ وقت اور نظر دی، اور دونوں کے لیے ایک ہی پتوں کا انداز رکھا۔ کبھی نو آموز غلطی سے وہی پرانا پتہ لگا دیتا تو اسے اصلی ہی مانا جاتا۔
کچھ دیر میں فرق صاف نظر آنے لگا۔ خالی اسٹیکر والی مشق میں سیکھنے کے لمحے صرف چند ڈبوں پر بنتے تھے۔ لیبل بدلنے والی مشق میں ہر ڈبہ ایک سوال بن گیا، چاہے جواب “اصلی” ہی کیوں نہ ہو۔ جب سپروائزر نے صرف بدلے ہوئے ڈبوں پر نمبر دینے کی کوشش کی تو بہتری سست پڑ گئی۔
مشق ختم ہوئی تو نو آموز واپس دوسرے کاموں پر چلا گیا، سینئر وہیں رہا۔ مطلب یہ کہ چھوٹا مددگار بس حقیقت جیسے غلط لیبل بنانے کے لیے تھا، رکھنا اصل میں اس مضبوط چیکر کو تھا جو ہر جگہ فٹ بیٹھنا سیکھ لے۔ خالی اسٹیکر والے طریقے کے مقابلے میں یہ کم وقت اور کم زور میں اچھا پڑھنے والا چیکر بنا دیتا ہے، خاص طور پر جب لمبی مشق کا خرچ نہ اٹھ سکے۔