رات کی ٹرین اور کائنات کی رفتار کا چھپا ہوا نقشہ
رات کی ٹرین سرنگوں میں چڑھ رہی تھی۔ ڈرائیور کا ایک ہاتھ رفتار کے بٹن پر تھا، دوسرا کھڑکی کے پاس چپکا ہوا پرانا چارٹ تھامے تھا۔ اندھیرا آگے سب چھپا دیتا ہے، اس لیے وہ ہر موڑ پر اندازہ نہیں لگاتا، چارٹ دیکھ کر چلتا ہے۔
کائنات کے پھیلنے کا قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کوئی باہر کھڑے ہو کر پورا سفر نہیں دیکھ سکتا۔ دور آسمان سے بس چند اشارے ملتے ہیں، اور انہی سے پتا کرنا پڑتا ہے کہ پہلے رفتار کم ہوئی، پھر کسی وقت بڑھنے لگی، جیسے آخر میں کسی نے ہلکا سا دھکا دے دیا ہو۔
لوگوں نے ایک سادہ مگر لچک دار چارٹ بنایا۔ ٹرین والی زبان میں، ایک حصہ بوجھ کی وجہ سے بدلتی چال جیسا تھا، ایک حصہ انجن کی مستقل کھینچ جیسا، اور ایک اضافی حصہ ایسا جیسے لمبے سفر میں ڈرائیور آہستہ آہستہ چھوٹی سی درستگی بڑھاتا جائے۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے بس ایک نرم، دیر سے بڑھنے والی ترمیم شامل کی، دیکھنے کو کہ واقعی ضرورت ہے یا نہیں۔
پھر اس چارٹ کو آسمان کے دو طرح کے اشاروں سے ملایا۔ ایک اشارہ ایسے جیسے مختلف فاصلے پر گھڑی کے نشان، کہ کہکشاؤں کی عمر کا بدلنا کیا کہتا ہے۔ دوسرا ایسے جیسے ایک جیسے چراغ، کہ کچھ پھٹتے ستارے دور جا کر کتنے روشن لگتے ہیں۔ دونوں اشارے ساتھ ہوں تو وہ اضافی ترمیم بار بار تقریباً صفر کے پاس واپس آ جاتی ہے، اکیلا ایک اشارہ تھوڑی گنجائش چھوڑ دیتا ہے۔
اسی بنی ہوئی رفتار کو لے کر انہوں نے کشش ثقل کے دو قاعدے آزمائے۔ پہلے میں مادہ اور خلا کی مڑاوٹ کا رشتہ عام سا رہتا ہے، بس مڑاوٹ کا اثر ایک سادہ قاعدے سے بڑھتا گھٹتا ہے۔ دوسرے میں مادہ خود مڑاوٹ کے ساتھ براہ راست جڑ جاتا ہے، جیسے سامان پٹری کی لچک پر ہاتھ رکھ دے۔ دونوں میں حالیہ دور کے لیے اندازہ یہی نکلا کہ دھکا دینے والی چیز کا رخ ایسا بنتا ہے جو تیزی کی طرف لے جائے۔
آخر میں انہوں نے حفاظتی قسم کے چیک لگائے، جیسے ٹرین کے لیے حدیں کہ سفر کسی عجیب الٹ پلٹ حالت میں نہ چلا جائے۔ زیادہ تر حدیں ٹھیک رہیں۔ لیکن ایک سخت قاعدہ، جو صرف کشش ثقل ہو تو رفتار کو لازماً کم کرواتا ہے، حالیہ وقت میں الٹ جاتا ہے۔ چارٹ پر انگلی رکھ کر صاف لگتا ہے، کچھ دیر سے چلتی ہوئی اضافی طاقت کے بغیر یہ سفر اسی طرح نہیں بنتا۔