جب تصویری پڑھنے والے کو دو الگ آنکھیں ملیں
صبح ہونے سے پہلے پارسل ہال میں ایک کارکن میز پر جھکا دھندلا فلیٹ نمبر پڑھ رہا تھا۔ اوپر بالکنی سے دوسرا دیکھ رہا تھا کہ دو تھیلے، جو ہال کے الگ کونوں میں پڑے ہیں، ایک ہی لمبے راستے پر جانے والے ہیں۔ ایک آدمی دونوں کام کرے تو قطار رک جائے۔
کافی نئے تصویری پڑھنے والے کچھ ایسے ہی تھے، جیسے سارا ہال بس بالکنی سے چل رہا ہو۔ دور کی چیزوں کا رشتہ وہ خوب پکڑ لیتے تھے، لیکن پاس کے باریک نشان، کنارے، اور ایک ہی چیز کا کبھی چھوٹا کبھی بڑا دکھنا انہیں الگ سے سیکھنا پڑتا تھا۔ ایک ہی اوزار سے دو نوکریاں لی جا رہی تھیں۔
یہاں نئی چال آئی۔ اسٹیشن ہی بدل دیے گئے۔ پارسل پہلے چھوٹے، پھر درمیانے، پھر ذرا بڑے جھنڈوں میں سمیٹے گئے، تاکہ قریب اور کچھ دور دونوں طرح کے سراغ ساتھ جمع ہوں۔ ساتھ ہی ایک راستہ میز والے کارکن کی طرح پاس کی بناوٹ پڑھتا رہا، اور دوسرا بالکنی والے کی طرح دور کے رشتے جوڑتا رہا۔
بات یہ ہے کہ یہ دونوں راستے باری باری نہیں چلے، ساتھ ساتھ چلے۔ آگے کے ہر مرحلے میں ایک راستہ کنارے اور بناوٹ دیکھتا رہا، دوسرا دیکھتا رہا کہ دور کی چیزیں کس طرح ایک دوسرے سے جڑی ہیں، پھر دونوں کی خبر ملا دی گئی۔ بعد کی صورت میں ہال کو ایک بڑے کمرے کی جگہ کئی درجوں میں بانٹ دیا گیا۔
شروع کے مصروف حصے میں دور دیکھنے والے راستے کو پورا ہال نہیں دیا گیا۔ اسے بس اپنے چھوٹے حصے پر نظر رکھنی تھی، کیونکہ پاس دیکھنے والا راستہ پڑوس کے حصوں کی جگہ پہلے ہی سنبھال رہا تھا۔ اسی لیے الگ سے بہت سے جگہ بتانے والے اشارے کم پڑے۔ جب تصویر کچھ ڈھکی ہو، تب بھی پاس والا راستہ تھوڑی دیر ایک دکھتے خانے پر جم کر کام کر لیتا ہے۔
پھر فرق صاف دکھا۔ چھوٹی صورت ہو یا بہت بڑی، یہ بندوبست کم مشق اور کم سہارا لے کر بھی اچھی پہچان تک پہنچ گیا۔ چیز کا نام بتانا ہو، جگہ ڈھونڈنی ہو، حد کھینچنی ہو، یا جسم کے نقطے پکڑنے ہوں، دو عملے بہتر چلے۔ ایک ہی جوڑی آنکھوں سے سب کچھ سیکھوانے کی ضد چھوڑ دی گئی۔