جب روبوٹ نے تھیٹر کے پردے کے پیچھے دیکھنا سیکھا
تیز سفید بتیوں کے نیچے تھیٹر کا پچھلا حصہ بھرا پڑا تھا۔ ایک نیا اسٹیج ہینڈ آدھی کھلی دراز، نشان پر رکھا مگ، کرسی پر پڑا تولیہ اور ڈبے کا منتظر ماسک دیکھ کر رک گیا۔ یہ شو اس کے لیے نیا تھا، پھر بھی چند سر کی اونچائی سے بنی ویڈیو دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ کیا ہلانا ہے، کہاں رکھنا ہے، اور کس چیز کو ہاتھ نہیں لگانا۔
روبوٹ کے ساتھ اکثر الٹا ہوتا ہے۔ اسے ہر نئے کام کے لیے پھر سے سکھانا پڑتا ہے، یا بس تصویریں دکھائی جاتی ہیں۔ صرف چیزوں کی شکل دیکھنے سے کام نہیں بنتا، جیسے کسی اسٹیج ہینڈ کو سامان کی فوٹو دے کر کہا جائے کہ اندھیرے اور بھیڑ میں پورا سین بدل دو۔ اصل کمی حرکت کی ترتیب کی ہوتی ہے۔
نیا کام یہ ہوا کہ روبوٹ کی آنکھوں والے حصے کو لوگوں کی اپنی نظر سے بنی بہت سی ویڈیو اور چھوٹے لفظی اشاروں سے سکھایا گیا۔ ایک ہی کام کے قریب لمحے آپس میں جوڑے گئے، دور لمحے الگ رکھے گئے۔ لفظی اشاروں نے بتایا کہ دھیان دیوار کے رنگ پر نہیں، اس بات پر جائے کہ ماسک دراز میں گیا یا تولیہ کرسی سے اٹھا۔ مطلب اور وقت نے اسے دیکھنا سکھایا۔
پھر ہر نئے کام پر اس دیکھنے والے حصے کو چھیڑا نہیں گیا۔ وہی آنکھیں رہیں، بس روبوٹ کو تھوڑی سی مثالوں سے ہاتھ چلانا سکھایا گیا، ساتھ اپنے جوڑوں کی خبر بھی دی گئی۔ جیسے اسٹیج ہینڈ کی نظر وہی رہے، صرف آج رات کے اشارے نئے ہوں۔ انجان مشق والی جگہوں میں یہ طریقہ نئے سرے سے سکھانے سے کافی بہتر نکلا، اور پرانے تیاری والے طریقوں سے بھی آگے رہا۔
جب لفظی اشارے ہٹائے گئے تو سب سے بڑا نقصان وہیں ہوا۔ یوں سمجھیں اسٹیج ہینڈ تیز تو ہے، مگر اسے یہ نہیں معلوم کہ اس سین میں اصل چیز کون سی ہے۔ ہاتھ غلط مگ پر جا پڑتا ہے، یا وہ دراز کھلی چھوڑ دیتا ہے۔ صرف زیادہ ویڈیو دکھا دینے سے یہ فرق نہیں بنا۔ فرق اس بات سے پڑا کہ ویڈیو کو وقت، مطلب اور مختصر یاد کے ساتھ سمیٹا گیا۔
پھر یہی بات بکھرے ہوئے کمرے جیسے منظر میں بھی کام آئی۔ کم رہنمائی کے ساتھ وہ روبوٹ دراز بند کرنے، چیز جگہ پر رکھنے، مگ کو دھکیلنے اور تولیہ تہ کرنے میں پرانی نظر والے روبوٹ سے بہتر رہا، خاص کر جب ہدف گندگی میں چھپا ہو۔ نئی بات یہ نہیں کہ مشین کو سکھانے کا کوئی جادو مل گیا۔ نئی بات یہ ہے کہ عام انسانی ویڈیو روبوٹ کے لیے بار بار کام آنے والی آنکھیں بن گئی۔