لاکروں کی قطار میں چھپا ہوا پرچا اور بدلتا ہوا انداز
اسپورٹس سینٹر کے تنگ سے ہال میں لاکروں کی لمبی قطار تھی۔ دوست نے کہا تھا، ایک لاکر میں چھوٹا سا پرچا چھپا ہے، سراغ دوسرے لاکروں میں ہیں۔ میں نے سوچا، یہ بالکل ویسا ہے جیسے لکھائی میں گم لفظ کا اندازہ لگانا, ترتیب بھی فرق ڈالتی ہے۔
پہلی عادت یہ تھی کہ میں بائیں سے دائیں چلوں اور ہر بار پچھلے لاکروں کے سراغ سے اگلا اندازہ لگاؤں۔ کام تو ہو جاتا، لیکن دائیں طرف والے سراغ آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی میں انہیں استعمال نہ کر پاتی۔
پھر خیال آیا کہ کچھ لاکروں کے نمبر چپکنے والی پٹی سے ڈھانپ دوں اور آس پاس دیکھ کر اندازہ لگاؤں۔ بات یہ ہے کہ یہ پٹیاں اصلی لاکروں کا حصہ نہیں تھیں، بعد میں بغیر پٹی کے یہی کام کرنا ہوتا تو عادت غلط پڑ جاتی۔ ایک ساتھ کئی پٹیاں ہوں تو ہر اندازہ اکیلا لگتا، حالانکہ سراغ آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔
نیا طریقہ یہ نکلا کہ لاکر اپنی جگہ رہیں، بس اندازہ لگانے کی ترتیب بدل جائے۔ کبھی میں بیچ والے لاکر کا اندازہ کچھ دائیں اور کچھ بائیں لاکر کھول کر لگاتی، کبھی کسی اور ترتیب سے۔ یوں دونوں طرف کے سراغ کبھی پہلے ملتے، کبھی بعد میں, اور پٹی کی ضرورت ہی نہ رہی۔
میں نے یہ بھی کیا کہ ہر بار پوری قطار نہیں چھیڑی۔ میں زیادہ تر اسی حصے پر دھیان دیتی جہاں کافی لاکر کھل چکے ہوں اور سراغ زیادہ ہوں۔ کئی بار میں ساتھ ساتھ والے لاکروں کی ایک پٹی سی دیکھتی, تاکہ جڑی ہوئی بات ایک ساتھ سمجھ آئے۔
ایک الجھن رہ گئی۔ اگر میرے پاس بس ایک ہی نوٹ بک ہو تو کبھی سمجھ نہ آئے کہ میں کس لاکر کا اندازہ لگا رہی ہوں۔ تو میں نے دو کاغذ رکھے: ایک پر کھلے لاکروں کی باتیں، دوسرے پر صرف یہ نشان کہ ہدف کون سا لاکر ہے۔ ہدف والے کاغذ کو اسی لاکر کے اندر کی بات دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔
ہال لمبا ہوتا گیا تو میں نے پچھلے حصے کے نوٹس پھینکے نہیں۔ میں نے انہیں ساتھ رکھا اور اگلے حصے میں بھی جھانک لیا۔ تب فرق صاف لگا: پہلے میں دور کی بات بھول جاتی تھی، اب پرچے کا مطلب دور والے سراغ سے بھی جڑنے لگا، اور تلاش کم بھٹکتی تھی۔