رات کی ڈیوٹی والا گارڈ کیسے خود سیکھ کر تیز ہو گیا
ہال میں مدھم روشنی تھی۔ نیا سکیورٹی گارڈ خالی نوٹ بک لے کر نکلا، نہ کسی شرارتی کی فہرست، نہ پرانی وارداتوں کا نقشہ۔ دیوار پر بس عمارت کے اصول تھے۔ یہی تصویر ایک کھیل سیکھنے والی چیز کی ہے جو صرف قواعد لے کر خود ہی کھیل کھیل کر سمجھ جاتی ہے۔
پہلے والے کھیل والے پروگرام ایسے تھے جیسے گارڈ کے ہاتھ میں موٹی فائلیں ہوں۔ کون سا کونا مشکوک لگتا ہے، کون سی چال عام ہے، سب انسانوں نے پہلے سے لکھ کر دے رکھا ہو۔ پھر بھی وہ اتنے راستے دیکھنے کی کوشش کرتے جیسے گارڈ ہر دروازے پر بھاگ بھاگ کر جھانک رہا ہو۔
نئی بات یہ ہوئی کہ گارڈ نے فائلیں کم کر دیں اور اپنے اندر ایک سادہ سا انداز بنا لیا۔ ایک حصہ اسے بتاتا کہ کون سے دروازے پہلے دیکھنے چاہییں، دوسرا حصہ اسے اندازہ دیتا کہ ابھی کی فضا پُرسکون ہے یا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ توجہ بکھرنے کے بجائے صحیح جگہ لگنے لگی۔
گارڈ نے صرف اندازے پر نہیں چھوڑا۔ وہ چند راستے چن کر آگے جا کر دیکھتا، پھر واپس آ کر اپنا پلان بدلتا۔ جس طرف اشارہ مضبوط ہوتا، وہی راستہ پہلے آزمایا جاتا، اور جہاں آگے دیکھنا مشکل لگتا وہاں وہ اپنا فوری اندازہ کام میں لاتا۔ یوں فیصلہ پہلی نظر سے بہتر بنتا گیا۔
ہر رات کے آخر میں گارڈ نوٹ بک کھولتا۔ جن گشتوں سے سکون رہا، وہ لکھ لیتا، جن سے الجھن بڑھی وہ بھی۔ اگلی رات وہ اپنی پرانی غلطیوں سے تھوڑا کم غلط ہوتا۔ اسی طرح وہ کھیل سیکھنے والی چیز بھی اپنے ہی کھیل سے سیکھتی رہی، اپنی پیش گوئی کو انجام سے ملا کر خود کو سیدھا کرتی رہی۔
فرق محنت کا تھا۔ کچھ لوگ ہر دروازے پر آنکھ مارنے کو طاقت سمجھتے تھے، جیسے رفتار ہی سب کچھ ہو۔ اس گارڈ نے کم جگہیں دیکھیں، لیکن بہتر جگہیں دیکھیں۔ کبھی ایک چھوٹی سی چیکنگ بڑے مسئلے سے پہلے ہی روک دیتی، اور راستے خود بخود سمجھ میں آنے لگتے۔
ڈیوٹی کے آخر میں گارڈ کے پاس نہ نئی فائلیں تھیں نہ تیز دوڑ کا غرور۔ اس کے پاس بس یہ عادت تھی کہ کہاں دیکھنا ہے، پھر چند راستے ٹھیک سے پرکھنے ہیں۔ پہلے شور والی نگرانی تھی، اب سمجھدار نگرانی تھی۔ یہی نئی بات تھی کہ صحیح توجہ، اندھا دھند چھان بین کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔