نکل والی ایک تیلی اور وہ پہیہ جو اچانک ہموار چل پڑا
چھوٹی سی بائیک دکان میں مکینک نے پہیہ گھمایا۔ رم ہلکا سا دائیں بائیں کانپ رہا تھا، کیونکہ اس میں پرانی مرمتوں کی الگ الگ تیلیاں لگی تھیں۔ کسی نے نکل کی ایک نئی تیلی تھمائی۔ مکینک نے ذرا رُک کر اسے لگا دی، پھر کسنا شروع کیا۔
یہ پہیہ ایک مثال ہے۔ رم اور تیلیوں کی جالی ایسے ہے جیسے دھات کے اندر کا ڈھانچا، اور ہر تیلی ایک ایٹم جیسی۔ جب ایک تیلی ذرا زیادہ کستی ہے تو رم اندر کی طرف کھنچتا ہے۔ بات یہ ہے کہ چھوٹے ایٹم پورے ڈھانچے کی دوریاں اور کھچاؤ بدل سکتے ہیں۔
لوگ اکثر نکل کو مسئلہ سمجھتے ہیں، جیسے یہ پہیے کا توازن خراب کر دے۔ اسی خیال کو الٹا کر کے انہوں نے ایک ملی جلی دھات میں تھوڑا تھوڑا نکل ملایا اور دیکھا کہ کہیں نکل الگ گٹھلیاں تو نہیں بنا رہا۔ وہ اسی ڈھانچے میں صاف بیٹھتا گیا، اور اجزا بھی جگہ جگہ یکساں پھیلے رہے۔
پھر اسے ٹھنڈا کیا اور بجلی کے بہاؤ کی رکاوٹ دیکھی۔ ایک جگہ آ کر رکاوٹ تقریباً غائب ہو گئی، جیسے پہیہ کانپنا چھوڑ کر سیدھا چلنے لگے۔ حیرت یہ تھی کہ نکل بڑھانے سے یہ ہموار لمحہ پہلے آتا گیا، یعنی نسبتاً کم ٹھنڈک پر۔
سیدھا پہیہ بھی جھٹکوں میں آزمائش دیتا ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ مقناطیسی زور کتنا بڑھے تو یہ خاص حالت ٹوٹتی ہے۔ یہ نمونے ایسے نکلے کہ زور کے بیچ میں بھی کچھ دیر تک قائم رہتے ہیں، اور عام طور پر نکل بڑھانے سے برداشت بھی بڑھتی گئی۔
گرمی ناپنے پر ایک اور اشارہ ملا: تبدیلی کے وقت چھلانگ توقع سے بڑی تھی، جیسے اندر کی پکڑ مضبوط ہو۔ نکل کے ساتھ ڈھانچا ذرا تنگ ہوا، اندر کی تھرتھراہٹ کی آواز اونچی سی ہوئی، اور بہاؤ کا انداز بھی صاف دکھا۔ مکینک نے پہیہ دوبارہ گھمایا، اور اس بار نکل والی تیلی نے بگاڑا نہیں، سنوار دیا۔