موتیوں کی لڑی سے بنی مشین
دھوپ سے چمکتے ایک چوک میں مزدور ایک لمبی تار بچھا رہے ہیں۔ اس تار میں شیشے، دھات اور کچی اون کے ہزاروں موتی پروئے ہوئے ہیں۔ یہ ایک بڑی آبی مشین کی شروعات ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے جسم میں پروٹین کی شروعات ایک سیدھی لڑی سے ہوتی ہے، ان موتیوں کی ترتیب ہی آگے کا سارا کھیل طے کرتی ہے۔
ابھی تار پوری طرح بچھی بھی نہیں ہوتی کہ دھاتی موتیوں کے اندر چھپے چھوٹے مقناطیس آپس میں جڑنے لگتے ہیں۔ وہ تار کے کچھ حصوں کو کھینچ کر گول چکروں اور تہوں میں موڑ دیتے ہیں۔ پروٹین میں بھی بالکل ایسا ہی ہوتا ہے، جہاں آس پاس کے حصے آپس میں جڑ کر لچکدار دھاگے کو ایک مضبوط شکل دینے لگتے ہیں۔
اصل جادو تب ہوتا ہے جب فوارہ چلتا ہے اور پانی بھرنے لگتا ہے۔ کچی اون کے موتی پانی سے بچنے کے لیے فوراً درمیان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں تاکہ خشک رہ سکیں۔ اس کھنچاؤ سے پوری تار ایک گول گیند کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پروٹین کے جو حصے پانی سے بچنا چاہتے ہیں، وہ بھی اسی طرح اندر چھپ کر اسے ایک حتمی شکل دیتے ہیں۔
پھر اسی طرح مڑی ہوئی تین اور تاریں پانی میں اتاری جاتی ہیں۔ ان کے بیرونی حصے پہلی تار کے ابھاروں میں بالکل فٹ بیٹھ جاتے ہیں، اور یوں پانی سے چلنے والا ایک بڑا پہیہ بن جاتا ہے۔ پروٹین کے مختلف حصے بھی اسی طرح آپس میں جڑ کر ایک بڑی مشین بناتے ہیں۔ اکیلا دھاگہ اکثر اپنے ساتھیوں کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔
اس گھومتے پہیے کو دیکھ کر سمجھ آتا ہے کہ کیسے موتیوں کی ایک سادہ سی لڑی محض پانی کے ردعمل سے ایک چلتی پھرتی مشین بن گئی۔ اس عمل کو سمجھنے سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ قدرت کی یہ چھوٹی مشینیں کیسے بنتی ہیں۔ اور جب یہ خراب ہو کر بیماری پھیلاتی ہیں، تو ہم انہیں ٹھیک کرنے کا راستہ بھی ڈھونڈ لیتے ہیں۔