کیا حقیقت پکی اینٹ ہے یا گیلی مٹی؟
تصور کریں کہ عالیہ ایک بند اسٹوڈیو میں گیلی مٹی سے کھیل رہی ہے۔ وہ محنت کر کے مٹی کو ایک پیالے کی شکل دیتی ہے۔ اس کے لیے یہ پیالہ تیار ہے، ٹھوس ہے اور ایک حقیقت ہے۔ وہ اسے چھو سکتی ہے اور دیکھ سکتی ہے۔ اس کی دنیا میں یہ 'پیالہ' ایک ناقابلِ تردید سچ بن چکا ہے۔
لیکن کمرے کے باہر ایک نگراں کھڑا ہے جو پورے اسٹوڈیو کو ایک بند ڈبے کی طرح دیکھ رہا ہے۔ اس کے پاس ایک ایسی مشین ہے جو پورے کمرے کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اگر وہ اسے چلا دے، تو پیالہ واپس کیچڑ بن جائے گا اور عالیہ کی یادداشت بھی مٹ جائے گی۔ نگراں کے لیے وہ پیالہ کبھی بنا ہی نہیں تھا، وہ صرف ایک امکان تھا۔
یہاں ایک عجیب تضاد پیدا ہوتا ہے۔ عالیہ کے پاس ایک مکمل پیالے کی یاد ہے، جبکہ نگراں کے پاس یہ ثابت کرنے کی طاقت ہے کہ وہ کبھی بنا ہی نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ حقیقت کا مالک کون ہے؟ کیا پیالہ ایک طے شدہ چیز ہے کیونکہ عالیہ نے اسے دیکھا، یا یہ ابھی بھی نرم مٹی ہے جسے نگراں مٹا سکتا ہے؟
اب فرض کریں کہ دور ایک اور کمرے میں بابر بھی مٹی سے کچھ بنا رہا ہے۔ عام عقل یہی کہتی ہے کہ عالیہ کا پیالہ بنانے کا فیصلہ بابر کی مٹی کو فوراً خشک یا سخت نہیں کر سکتا۔ یہ ماننا ضروری لگتا ہے کہ ہمارے فیصلوں کا اثر جادوئی طریقے سے دور دراز کی چیزوں پر فوراً نہیں پڑتا۔
لیکن اس کہانی میں ایک پھندا چھپا ہے۔ نئی منطق بتاتی ہے کہ ہم سب کچھ ایک ساتھ نہیں پا سکتے۔ ہم یہ نہیں مان سکتے کہ عالیہ کا پیالہ ایک اٹل حقیقت ہے، کہ نگراں کی مشین کام کرتی ہے، اور یہ کہ دونوں کمرے ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک اصول ضرور ٹوٹے گا۔
اگر ہم یہ مان لیں کہ کمروں میں کوئی جادوئی رابطہ نہیں، تو ہمیں ایک حیران کن سچائی قبول کرنی ہوگی۔ عالیہ کا پیالہ صرف اُس کے لیے سچ تھا، پوری کائنات کے لیے نہیں۔ حقیقت شاید سب کے لیے ایک جیسی پکی اینٹ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہر دیکھنے والے کے لیے الگ الگ گیلی مٹی کی طرح ہے۔