سورج نکلنے سے پہلے میں بس ڈپو میں رکا۔ روٹ کا نقشہ کھولا تو کاغذ کی پرانی پھٹی پٹیاں اب بھی خالی تھیں۔ میں برسوں سے یادداشت کے سہارے انہی خالی حصوں کے بیچ بس چلاتا آیا تھا، آج دل چاہا نقشہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک پورا ہو۔
خالی پٹیاں وہیں تھیں جہاں گلیاں سب ایک جیسی لگتی ہیں، گول چکر، ایک جیسے بلاک، ایک جیسے موڑ۔ انسان کے جسم کے اندر جو لمبی ہدایت نامہ جیسی لکیر ہے، اس میں بھی کچھ جگہیں ایسی ہی تھیں: بار بار دہرائے گئے حصے، جہاں پرانا نقشہ اکثر اندازے سے بھرا جاتا تھا۔
اس بار نقشہ بنانے والوں نے ایسا ذریعہ چنا جس میں ہر گلی کا بس ایک ہی سا نام ہو، تاکہ دو ملتے جلتے منصوبے آپس میں گڈمڈ نہ ہوں۔ پھر انہوں نے دو طرح کی پیمائشیں لیں: ایک بہت صاف مگر کبھی کبھی وہیں رک جاتی جہاں سب کچھ ایک جیسا ہو، دوسری لمبی دور تک ساتھ دیتی مگر نوٹ کچھ شور والے ہوتے۔
انہوں نے ٹکڑے تبھی جوڑے جب اوپر رکھ کر دیکھا تو موڑ اور نام بالکل جڑ گئے، تقریباً نہیں۔ زیادہ تر راستہ سیدھا بنتا گیا، پھر ایک جیسے بلاکوں میں گانٹھ پڑ گئی۔ گانٹھ کھولنے کو انہوں نے دیکھا کون سا بلاک کتنی بار ملا، پھر لمبی پیمائش سے طے کیا اصل بس کس راستے سے گزرتی ہے۔
ایک محلہ پھر بھی ضدی نکلا، جیسے ایک ہی عمارت بار بار ہو مگر ہلکی ہلکی تبدیلی کے ساتھ۔ جسم کے نقشے میں یہ وہ حصہ ہے جو خلیے کے چھوٹے کارخانے بنانے میں کام آتا ہے، اور بہت دہرایا گیا ہوتا ہے۔ انہوں نے عمارتوں کو چند قسموں میں بانٹا، اندازہ لگایا ہر قسم کتنی ہے، اور اتنا نقشہ بنا لیا کہ سائز اور مواد واضح ہو جائے۔
نیا نقشہ چھپا تو تقریباً ساری خالی پٹیاں غائب تھیں، بس ایک خاص سڑک والا حصہ اس لیے نہ آیا کہ وہ اس ذریعے میں تھا ہی نہیں۔ پرانے نقشے کی کئی غلط نشانیاں بھی درست ہو گئیں۔ اب جی پی ایس کم بھٹکتا ہے، اور جسم کے نقشے میں بھی پڑھائی ہوئی لکیریں غلط پتے پر کم جا لگتی ہیں، تو جھوٹے الارم کم بنتے ہیں۔