پرانے تھیٹر کی تنگ پٹری پر ایک چھوٹا سا جنریٹر
پرانے گھومتے تھیٹر کے پیچھے تنگ سی پٹری پر سب کی نظریں ایک چھوٹے جنریٹر پر تھیں۔ ٹرک پہلے ہی بھر چکا تھا، ریہرسل کا وقت بھی نہیں۔ مقصد بس یہ تھا کہ آج کی کہانی وہی رہے، بس کم بجلی اور کم سامان میں۔
مسئلہ یہ تھا کہ شو میں دو کام بار بار ہوتے تھے: اسپاٹ لائٹ پرانی باتوں میں سے اہم چیز چنتی، پھر تیز کورس اگلا موڑ بناتا۔ کبھی روشنی ایک پل کو بہت تیز چمکتی، سستے کنٹرول اسے ٹھیک سے نہیں سنبھالتے، اور باقی منظر بھی بگڑ جاتا۔
انہوں نے سادہ حل آزمایا: ہموار ڈِمر ہٹا کر کم درجوں والے مضبوط نوب لگا دیے۔ وزن اور بجلی بچی، لیکن وہ اچانک تیز چمک پھر بھی سب کچھ خراب کرتی۔ پھر انہوں نے نوب سے پہلے روشنی کا توازن ٹھیک کیا، اور کبھی کبھار نایاب تیز جھماکے کو تھوڑا کاٹ دیا تاکہ پورا سین نہ ہلے۔
وقت ملا تو لمبی ریہرسل کے بجائے چند چھوٹی ریہرسل کیں، بس چند کنٹرول ٹھیک کیے، پورا شو نہیں بدلا۔ پھر کاسٹ بھی کم کرنی پڑی، تو چھوٹے گروپ نے بڑے فنکار کی نقل سیکھی: کبھی آخری تاثر دیکھ کر، کبھی بیچ کے اشارے پکڑ کر۔
ایک پھندا بھی تھا۔ اگر نئے فنکار ہر عجیب و غریب اچانک والی ادا کی نقل کریں تو گڑبڑ ہو جاتی۔ وہ بہتر تب ہوئے جب عام، پکی لائنیں اپنائیں اور اسی پر فیڈبیک لیا جو وہ واقعی بول رہے تھے، نہ کہ ہر ممکن بات پر۔
پھر کٹوتی شروع ہوئی۔ ایک جیسے سجاوٹی پروپس نکال دیے، ایک چھوٹا کردار ہٹا دیا جس کے جملے ویسے ہی دہرائے جا رہے تھے، اور ایک چھوٹا سا سین بھی چھوڑ دیا جو وقت کھاتا تھا۔ کٹوتی ایسی کی کہ اسٹیج ہینڈ واقعی تیز چل سکیں، صرف فہرست صاف نہ لگے۔
اوپننگ نائٹ پر ایک اور ترکیب چلی۔ جونیئر فنکار اگلا جملہ آدھا قدم پہلے ہونٹوں میں بنا دیتا، لیڈ یا تو مان لیتا یا ٹھیک کر دیتا، اور رفتار بڑھ جاتی مگر سامعین کو وہی آخری لائن سنائی دیتی۔ تب سمجھ آیا: کم درجوں والے کنٹرول، کم پروپس، چھوٹی کاسٹ اور یہ ڈرافٹ والا مددگار مل کر کام بناتے ہیں۔ نتیجہ سیدھا ہے: وہی شو، کم طاقت اور کم جگہ میں، تو چھوٹے پارک بھی اس کی میزبانی کر سکتے ہیں۔